نیویارک: امریکی فوج کی انٹیلی جنس میں ایک تجزیہ کار نے منگل کے روز اس بات کا اقرار کر لیا کہ اس نے حساس دفاعی معلومات چین کو فراہم کیں۔ اس معلومات میں ہتھیاروں کے نظام اور فوجی حکمت عملیوں سے متعلق امریکی دستاویزات شامل ہیں۔انتہائی اعلی سطح کی سیکورٹی کلیئرنس کے حامل سارجنٹ Korbein Schultz کو رواں سال مارچ میں کینٹکی اور ٹینیسی کے بیچ سرحد پر واقع فوجی اڈے فورٹ کیمبل سے گرفتار کیا گیا تھا۔شولٹز نے قومی دفاعی معلومات حاصل کر کے اسے اِفشا کرنے سے متعلق الزامات میں اپنے قصور کا اعتراف کر لیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق شولٹز نے حساس نوعیت کے درجنوں امریکی فوجی دستاویزات ہانگ کانگ میں رہنے والے ایک شخص کو فراہم کیں۔ اس شخص کے بارے میں شولز کا خیال ہے کہ وہ چین کی حکومت کے ساتھ منسلک ہے۔ امریکی وزارت انصاف کے مطابق یہ معلومات فراہم کرنے عوض امریکی فوجی کو 42 ہزار ڈالر ملے۔شولٹز کی جانب سے افشا کی جانے والی معلومات میں یوکرین روس جنگ سے امریکی فوج کو حاصل ہونے والے کارآمد سبق اور اسے تائیوان کے دفاع پر لاگو کرنے کے طریقہ کار سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ دیگر دستاویزات میں چینی فوجی تدابیر اور استعداد کے علاوہ جنوبی کوریا اور فلپائن میں جاری امریکی فوج کی عسکری مشقوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ معلومات میں HH-60 ہیلی کاپٹر، F-22A لڑاکا طیارے،U-2 جاسوس طیارے اور میزائل نظاموں کے متعلق دستاویزات بھی شامل ہیں۔امریکی ایف بی آئی میں قومی سلامتی کے شعبے کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ ڈائریکٹر روبرٹ ویلز کا کہنا ہے کہ چین جیسی حکومتیں دشمنی کے طور پر ہمارے فوجی اہل کاروں کو اور ہماری قومی سلامتی کی معلومات کو ہدف بناتی ہیں تاہم اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ اس معلومات کو دشمن غیر ملکی حکومتوں سے محفوظ رکھ سکیں۔کوربن شولٹز کو دس برس تک کی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مقدمے کا فیصلہ 23 جنوری 2025 کو سنایا جائے گا۔