امریکی فوج نے شام میں’جنگی جرم‘ کی پردہ پوشی کی

   

Ferty9 Clinic

دو فضائی حملوں میں خواتین اور و بچوں سمیت 64 شہریوں کی ہلاکت کا الزام: نیویارک ٹائمزکا انکشاف
واشنگٹن : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے جنگ زدہ ملک شام میں دو فضائی حملوں سے رونما ہونے والے حقائق کو چھپایا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوج 2019ء میں شام میں کیے گئے اپنے دو فضائی حملوں پر پردہ ڈال رہی ہے جس میں تقریبا 64 عورتیں اور بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ داعش تنظیم کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران میں ہونے والی یہ کارروائی ممکنہ جنگی جرم ہے۔اخبار نے ہفتے کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الباغوز گاؤں کے نزدیک ہونے والے یہ دو مسلسل فضائی حملے امریکی خفیہ آپریشنز کے یونٹ کے حکم پر کیے گئے۔ یہ یونٹ شام میں زمینی کارروائیوں کا ذمے دار ہے۔رپورٹ کے مطابق باغوز قصبے کے قریب دو فضائی حملوں کا حکم ایک خفیہ امریکی خصوصی آپریشن یونٹ نے دیا تھا جسے شام میں زمینی کارروائیوں کا کام سونپا گیا تھا۔نیوزیارک ٹائمز نے کہا کہ شام میں امریکی فضائی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمانڈ نے رواں ہفتے پہلی مرتبہ حملوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ یہ جائز ہیں۔ایک بیان میں سینٹرل کمانڈ نے اخبار کو دیے گئے بیان میں کہا کہ حملوں میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 16 داعش کے جنگجو اور 4 شہری شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دیگر 60 افراد عام شہری تھے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین اور بچے جنگجو ہو سکتے تھے۔فوج نے کہا کہ یہ حملے ’اپنے دفاع‘ کے متناسب سے تھے اور اس کے لیے ’مناسب اقدامات‘ کیے گئے تھے۔سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ہم معصوم جانوں کے ضیاع سے نفرت کرتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرتے ہیں، اس نے معاملے کی تفتیش کی اور غیر ارادی جانی نقصان کی پوری ذمہ داری قبول کی۔ان کا کہنا تھا کہ 60 ہلاکتوں میں عام شہریوں کی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا کیونکہ واقعات کی ویڈیو میں ’متعدد مسلح خواتین اور کم از کم ایک مسلح بچے کو دیکھا گیا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ 60 میں سے زیادہ تر ممکنہ طور پر جنگجو تھے۔سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ حملے اس وقت ہوئے جب سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) شدید گولہ باری کی زد میں تھے اور ان کے زیر اثر ہونے کا خطرہ تھا اور ایس ڈی ایف نے علاقے کو شہریوں سے خالی کرنے کی اطلاع دی تھی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے 18 مارچ 2019 کو ہونے والے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا لیکن ان کی رپورٹ میں بم دھماکے مکمل اورآزاد تحقیقات کا ذکر نہیں تھا۔تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تحقیقات جامع اور آزاد نہیں تھیں۔اخبار کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ خفیہ دستاویزات کے علاوہ ان افراد کے انٹرویو پر مبنی ہے جنہوں نے اس کارروائی میں براہ راست حصہ لیا۔ اس رپورٹ میں خفیہ دستاویزات اور خفیہ رپورٹس کی تفصیل کے ساتھ براہ راست ملوث اہلکاروں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔