واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے 2024 کی صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کے حیرت انگیز فیصلے پر ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ان کی تعریف کی ہے اور ری پبلکنز کی طرف سے ان پر تنقید ہوئی ہے جنہوں نے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔بائیڈن نے اپنے فیصلے کا اعلان اتوار کو ہفتوں کی قیاس آرائیوں اور اپنی ہی پارٹی کے اندر سے بڑھتے ہوئے مطالبات کے بعد کیا جو گزشتہ ماہ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مباحثے میں خراب کارکردگی کے بعد صدارتی دوڑ سے الگ ہونے کا کہہ رہے تھے۔ بائیڈن نے نائب صدر کملا ہیرس کی بطور ڈیموکریٹک امیدوار نامزدگی کی حمایت کی۔سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ بائیڈن نہ صرف ایک عظیم صدر اور ایک عظیم قانون ساز رہنما رہے ہیں بلکہ وہ حقیقتاً ایک حیرت انگیز انسان ہیں۔ ان کا فیصلہ یقیناً آسان نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے ایک بار پھر ملک، پارٹی اور ہمارے مستقبل کو اولین ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن دکھا رہا ہے کہ آپ ایک سچے محب وطن اور عظیم امریکی ہیں۔ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے ہمراہ شومر درپردہ کام کر رہے تھے تاکہ کئی کانٹے کے مقابلے کی ریاستوں کے جائزوں میں ان کے پیچھے رہنے کے حوالے سے بائیڈن کی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے۔ ریاست اوہائیو، مونٹانا اور ویسٹ ورجینیا میں دوبارہ منتخب ہونے کی سخت مہم کا سامنا کرنے والے ڈیموکریٹک سینیٹرز نے حالیہ دنوں میں اس خوف سے کہ صدر کی الیکشن ٹکٹ پرموجودگی سے ان کے امکانات کو نقصان پہنچے گا بائیڈن سے انتخابی مہم سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا۔پیلوسی نے اتوار کو کہا کہ صدر جو بائیڈن ایک محب وطن امریکی ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہمارے ملک کو فوقیت دی ہے۔ ان کی بصیرت، اقدار اور قیادت کی میراث انہیں امریکی تاریخ کے اہم ترین صدور میں سے ایک بناتی ہے۔ ہم اس کا جواب آخرکار پہلی خاتون کو صدارت کیلئے چن کر دیں گے۔
“ری پبلکن قانون سازوں نے بائیڈن کی ذہنی اور جسمانی صحت کے حوالے سے ان پر اپنی تنقید جاری رکھی ہے اور کہا کہ کہ صدر کے فیصلے نے ووٹروں کی مرضی کو بے وقعت بنا دیا ہے۔ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ “امریکی تاریخ کے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے موڑ پر، ہمیں اس بارے میں واضح ہونا چاہیے کہ ابھی کیا ہوا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے انتخابات سے محض 100 دن قبل امیدوار کو الیکشن سے باہر ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ “ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد امریکیوں کے ووٹوں کو بے وقعت کرنے کے بعد جنہوں نے جو بائیڈن کو صدر کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر منتخب کیا۔ خود کو جمہوری جماعت کہنے والی پارٹی نے اپنے آپ کو اس کے مخالف ثابت کیا۔ نائب صدر کاملا ہیرس کے ساتھ جو کہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی کی ناکامیوں میں شریک ہیں، پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے امکانات اب بہتر نہیں ہیں۔”