امریکی قونصل خانہ میں سرگرمیاں ٹھپ ، اواخر جون کارکردگی کا آغاز متوقع

   

عہدیداروں کا ورک فرم ہوم ، یومیہ محدود درخواستوں کی یکسوئی ، امریکی محکمہ خارجہ کے احکامات کا انتظار
حیدرآباد۔یکم۔جون(سیاست نیوز) امریکی قونصل خانہ کی خدمات جاریہ ماہ کے دوران شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ امریکی قونصل خانہ جو کہ کورونا وائرس کے سبب مکمل بند ہے اور تمام سرگرمیاں مفلوج ہیں وہ جاریہ ماہ بھی شروع کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن کہاجا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں دفتری امور کی انجام دہی کا آغاز کردیا جائے گا ۔شہر حیدرآباد میں موجود امریکی قونصل کی جانب سے انجام دی جانے والی تمام دفتری سرگرمیاں لاک ڈاؤن سے قبل ہی روک دی گئی تھیں اور دفتری امور کی انجام دہی کے علاوہ ہندوستان میں موجود امریکی شہریوں کی واپسی کے سلسلہ میں کی جانے والی کاروائیاں عہدیدار گھروں سے انجام دے رہے تھے ۔ قونصل خانہ میں ویزاکے لئے درخواستوں کی وصولی کے عمل کے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی بحالی کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن اور قونصل خانہ کی سرگرمیوں کو بند کئے جانے سے قبل حیدرآباد میں یومیہ 700تا900 ویزا درخواستوں کی یکسوئی ہوا کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں لگتا کہ جب کبھی ویزا کیلئے سرگرمیوں کا آغاز کیاجائے گا تو اتنی تعداد میں ویزا درخواستوں کی یکسوئی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ سماجی فاصلہ کے علاوہ دیگر امور کے سلسلہ میں احتیاط کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ امریکی قونصل خانہ میں ویزا درخواستوں کی وصولی کا جب کبھی آغاز ہوگا تو یومیہ 100 سے زائد درخواستوں کی یکسوئی نہیں ہوگی ۔ جن لوگوں کی درخواستیں داخل کی جاچکی ہیں اور لاک ڈاؤن کے مدت کے دوران جن کے انٹرویوز ہونے تھے پہلے ان کی درخواستوں کی یکسوئی کے بعد ہی نئی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ امریکی قونصل خانہ میں فی الحال H1Bپریمیئر کیلئے درخواستوں کی وصولی کا عمل جاری ہے اور اب دوسرے مرحلہ کی درخواستیں وصولی جا رہی ہیں۔ پریمئیر انٹرویو کیلئے جو درخواستیں داخل کی جا رہی ہیں ان میں صرف ہنگامی خدمات سے متعلق درخواست گذاروں کی درخواست ہی وصول کی جائیگی اور سیاحتی سفر وغیرہ کیلئے جو درخواستیں داخل کی جانی ہیں اس کے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں اگر امریکی قونصل خانہ میں دفتری سرگرمیوں کا آغاز کردیا جاتا ہے تب بھی ویزاکے شعبہ میں سرگرمیاں شروع کرنے کے سلسلہ میں فیصلہ نہیں لیا جائے گا اور امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کے بعد ہی اس سلسلہ میں کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔