امریکی مذہبی گروہ نے اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دیا

   

فلسطینی علاقوں میں مصنوعات کی فروخت پر پابندی کے بعد یہودی لابی کو ایک اور کاری ضرب

واشنگٹن: امریکی ڈیری اور آئس کریم کمپنی ’آئیس کریم بن اینڈ جیری‘ کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے پر پابندی کے فیصلے کے بعد امریکہ میں یہودی لابی کو ایک اور کاری ضرب لگی ہے۔ امریکہ میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے اسرائیل کو’نسل پرست‘ ریاست قرار دیا ہے۔امریکہ میں کسی مذہبی گروپ کی طرف سے اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دینے کا یہ پہلا واقعہ اور امریکہ میں یہودی لابی پر ایک کاری ضرب ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ میں ’یونیون کارپائیڈ‘ میں واقع جنرل چرچ نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی پر منی سلوک روا رکھنے پرامریکی نیوز ویب سائٹ ’مونڈیوز‘ کے مطابق اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دینا اہمیت کا حامل واقعہ ہے۔ ایک عیسائی گروپ کی طرف سے اسرائیل کو نسل پرست ملک قرار دینے سے دیگ عیسائی مذہبی مسالک میتھوڈیہ، لاتھرین، اسقف، موحد اور الکویکرز جیسے نمایاں گروپ اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دینے پر غور کرسکتے ہیں۔یونیون کاربائیڈ کی قیادت نے اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت پر زور دیا ہے۔