واشنگٹن : امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے دورہ اسرائیل کو ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور نیوکلیئر معاہدہ بحال کرنے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔عرب نیوز کے مطابق مشرق وسطیٰ کے امور سے وابستہ ماہرین کے خیال میں امریکی وزیر دفاع کے دورے کا مقصد اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے علاوہ امریکہ کی ایران نیوکلیئر معاہدے میں واپسی کی راہ ہموار کرنا ہے۔یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع اتوار کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچے تھے۔وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے یقین دہانی کروائی تھی کہ ’اسرائیل کی عسکری برتری اور اس کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری میں فروغ کے لیے امریکہ پرعزم ہے۔‘تجزیہ کار لمیس اندونی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’وزیر دفاع کے دورے کا مقصد امریکہ کی نیوکلیئر معاہدے میں واپسی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔‘لمیس اندونی کے مطابق ’امریکی صدر جو بائیڈن کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو خطے میں کشیدگی پیدا کرنا چاہیں گے، تاکہ سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والا نیوکلیئر معاہدہ بحال نہ ہو سکے۔
‘انہوں نے مزید کہا کہ ’نیتن یاہو صرف اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں، ایران کی جانب سے خطرات کو مزید بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے تاکہ خلیجی ممالک ایران کے خلاف متحد رہیں۔‘فلسطین کی بیر زیت یونیورسٹی کے پروفیسر علی جرباوی نے عرب نیوز سے بات چیت میں کہا کہ ’امریکی وزیر دفاع کے دورے کا مقصد صرف اسرائیل کو آگاہ کروانا ہے کہ نئی امریکی حکومت ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ بحال کرے گی۔‘اردن کی فضائیہ کے ریٹائرڈ جنرل مامون ابو نوار کے خیال میں دورے کا مقصد یقین دہانی کرنا ہے کہ اسرائیل خطے میں حالات کشیدہ نہ کرے۔
