امریکی ڈاکٹر خاتون مریضوں کے جنسی استحصال کا ملزم

   

واشنگٹن: امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق نیو یارک سٹی کے ایک ڈاکٹر پر پیر کو کم از کم چھ خواتین مریضوں کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ ان میں متعدد ایسی مریض خواتین بھی شامل ہیں جنہیں ایک معزز مقامی اسپتال میں علاج کے دوران نشہ دیا، فلمایا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ژی ایلن چینگ کو پیر کو تین خاتون مریضوں سے نیویارک کے پریسبیٹیرین کوئنز اسپتال میں اور تین دیگر خواتین سے کوئنز، نیو یارک میں اپنے اپارٹمنٹ کے اندر زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس نے الزامات کا اعتراف نہیں کیا۔ 33 سالہ گیسٹرو اینٹرولوجسٹ کو ڈسمبر میں اس کے کوئنز کے گھر میں ایک شناسا خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا جس کے بعد اسے اسپتال کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس وقت خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس نے ایسی ویڈیوز دریافت کیں جو اس کے اور کئی دیگر خواتین کے ساتھ زیادتی پر مبنی تھیں۔نئی فرد جرم کے مطابق جب تفتیش کاروں نے اس کے گھر اور آلات کی تلاشی لی تو انہوں نے ویڈیو شواہد کا ایک ذخیرہ دریافت کیا جس میں دکھایا گیا کہ ڈاکٹر اپنے گھر اور کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔استغاثہ نے بتایا کہ فوٹیج میں چینگ کو اسپتال کی تین مریضوں کو گرفت میں لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن میں ایک 19 سالہ لڑکی اور ایک 47سالہ ’شدید بیمار‘ شامل ہے ۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق تمام خواتین زیادتی کے دوران بے ہوش نظر آتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینگ نے انہیں بے ہوش کرنے کیلئے دوا کا استعمال کیا۔عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اس کے گھر سے کوکین اور ایکسٹیسی جیسی تفریحی منشیات کے ساتھ متعدد قسم کے مائع اینستھیزیا (بے ہوشی کی دوا) برآمد کی گئیں۔