یروشلم: فلسطینی حکام نے جمعرات کو راملہ میں امریکی کانگریس کی ایک سماعت، جس میں فلسطینی اتھارٹی پر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا کو “گمراہ کن اور غیر منصفانہ” قرار دیا ہے۔امریکی کانگریس میں چہارشنبہ کو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا سے متعلق ایوان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کی سماعت میں شرکت کے لیے صرف اسرائیل کے حامیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس سماعت میں 2018 کے قانون ” ٹیلر فورس ایکٹ “کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا گیا جو اس بنیاد پر کہ فلسطینی اتھارٹی “اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنے پر فلسطینیوں کو انعام دیتی ہے”ا مریکی مالی امداد کی فراہمی پر پابندی لگاتا ہے۔فلسطینی حکام نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے منتظمین نے انہیں ان کا موقف پیش کرنے کے لیے مدعو نہیں کیا اور ایسا کرنے سے اسرائیل کے حق میں ان کے ’’تعصب‘‘ اور کانگریس کے کچھ اراکین کے فلسطین مخالف جذبات کا انکشاف ہوتا ہے۔سماعت کی قیادت ایوان نمائندگان کے ریپبلکن رکن جو ولسن نے کی جو ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے فلسطینی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ’’قتل کرنے کے لیے تنخواہ‘‘ کا نظام چلا رہی ہے، جس میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کو مارنے پر انعام دیا جاتا ہے۔تاہم، میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی فلسطینی حکام نے سختی سے تردید کی ہیایلیٹ ابرامس، جو اسرائیل کے حامی سابق صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کے مشیر ہیں، اور ذیلی کمیٹی کے کئی دیگر ارکان نے بھی فلسطینی اتھارٹی پر ایسے نظام میں حصہ لینے کا الزام لگایا جو دہشت گردوں کو عزت اور انعام دیتا ہے۔