اسلام آباد 10 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان قائدین نے اپنی صفوں اور بشمول حقانی نیٹ ورک میں مکمل تلاشی اور جانچ کے بعد آج کہا ہے کہ امریکہ کے سابق بحری عہدیدار و کنٹراکٹر مارک آر فریرچس اس کی قید میں نہیں ہے ۔ طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ ہمارے پاس اس لاپتہ امریکی شہری کے تعلق سے کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے واقفیت رکھنے والے ایک اور طالبانی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے رسمی اور غیر رسمی طور پر دونوں طریقوں سے امریکی عہدیداروں کو مطلع کردیا ہے کہ ہمارے پاس فریرچس کے تعلق سے کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے انہیں یرغمال بناکر رکھا ہے ۔ امریکہ کے نمائندہ امن برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا تھا کہ فریرچس کو رہا کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے قطر میں طالبان کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فریقین کے مابین معاہدہ کروانے کی کوشش کی تھی ۔ ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سفرتخانہ کابل نے بتایا تھا کہ زلمے خلیل زاد نے اس معاملہ میں پاکستان کی بھی مدد طلب کی ہے اور پاکستان سے بھی کہا ہے کہ وہ فریرچس کا پتہ چلانے میں اس کی جانب سے ممکنہ تعاون کرے ۔ انہوں نے جمعہ کو پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وہاں عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے قطر مذاکرات کی تفصیلات سے واقف کروایا تھا ۔ واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوحہ میں تقریبا کامیابی کی سمت پیشرفت کر رہے ہیں ۔
