مقبوضہ مغربی کنارے ۔ 2 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازع امن منصوبہ کے خلاف فلسطینیوں نیسخت احتجاج کیا۔جس کے تحت اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے اہم علاقوں کو ضم کرنے کے لئے امریکی اجازت مل گئی۔خبررساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق مظاہروں اور کچھ اکا دکا جھڑپوں میں اس مجوزہ منصوبہ کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ جس میں فلسطینی خواہشات کو مدنظر رکھنے کے بجائے اسرائیلی مقاصد کی حمایت کی گئی ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہو کر اس منصوبہ کا اعلان کیا تھا جبکہ وہاں کوئی فلسطینی نمائندہ موجود نہیں تھا، امریکی صدر کے مطابق ان کا منصوبہ وہ کچھ حاصل کرسکتا ہے جو دوسرے پانے میں ناکام رہے۔تاہم یہ منصوبہ اسرائیل کو کافی کچھ دیتا ہے جو اس نے کئی دہائیوں سے کی جانے والی بین الاقوامی سفارتکاری میں طلب کیا، جس میں یروشلم کو فلسطینیوں کے ساتھ بانٹنے کے بجائے بحیثیت ’غیر منقسم‘ دارالحکومت کنٹرول حاصل کرنا۔اس منصوبہ میں امریکہ نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادی اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دے دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے، جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اس منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے اس معاہدے کو ’تاریخ کا کوڑادان‘ قرار دیا۔غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والی اسلامی تحریک حماس نے کہا کہ وہ یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔اس ضمن میں امریکی سکریٹری اسٹیٹ مائیک پومیو کا کہنا تھا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ جو نظریہ صدر نے پیش کیا اس کی بنیاد پر اسرائیلی بیٹھ کر مذاکرات کرنے پر راضی ہوں گے‘‘۔مغربی کنارے کے شہر بیت الحم میں مظاہرین نے اسرائیلی سرحد کے سیکورٹی فورسزپر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں انہوں آنسوگیس کے گولے داغے۔
غزہ سے اسرائیل کی سمت راکٹ داغا گیا:آئی ڈی ایف
تل ابیب،2فروری(سیاست ڈاٹ کام)اسرائیلی دفاعی فورسز(آئی ڈی ایف)نے ہفتے کو کہا کہ مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے امریکہ کے منصوبے کے خلاف عرب ملکوں کے بڑھتے اشتعال کے درمیان غزہ پٹی سے اسرائیل کی سمت ایک اور راکٹ داغا گیا۔آئی ڈی ایف نے ٹویٹ کیا،‘‘غزہ کی سمت سے اسرائیل میں ایک راکٹ داغا گیا۔یہ مسلسل چوتھا دن ہے جب غزہ میں جنگجوؤں نے اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بناکر راکٹ داغے ہیں۔’’اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ تناؤ اور بھی بڑھ گیا جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو لمبے وقت سے زیر التوا اسرائیل -فلسطین امن مذاکرات کا انکشاف کیا۔اسرائیل کے ویسٹ بینک اور وادی اردن میں تباہی پر روک لگانا ‘صدر کے سودے ’ کا تصور کرنے جیسا ہے ،جو یہودی ریاست یروشلم کو ایک ‘غیر منقسم دارالحکومت کے طورپر ظاہر کرتا ہے ۔اس سے پہلے فلسطین نے ہفتے کو اعلان کیاتھاکہ مجوزہ منصوبے کے سلسلے میں امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ساتھ تعلقات میں تلخی آئی ہے ۔عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ نے اس معاہدے کو مسترد کردیا اور بین الاقوامی برادری سے اسے نافذ کرنے کے لئے اسرائیل کی کوشش سے نمٹنے کی اپیل کی۔