تشدد سے دوری پر جموں و کشمیر میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ فوجی سربراہ کے دورہ سرینگر کا اختتام
سری نگر: فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے نے کہا کہ امن و سکون کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے ‘کشمیری جنگجوئوں’ کا نام لئے بغیر کہا کہ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے اس کے برعکس امن کو گلے لگانے سے جموں و کشمیر میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے ۔فوجی سربراہ نے یہ باتیں جمعرات کو یہاں اپنے دو روزہ دورے کو سمیٹنے کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج مجوزہ امرناتھ یاترا کے لئے تیار ہے اور اس نے اس سالانہ یاترا کے پرامن اور کامیاب انعقاد کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے ہیں۔تاہم ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ امرناتھ یاترا کا انعقاد کرنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا سول انتظامیہ کی صوابدید ہے ۔فوجی سربراہ جنرل نروانے سے جب پوچھا گیا کہ ان کا کشمیری نوجوانوں کے لئے کیا پیغام ہے تو انہوں نے کہا: ‘ایک طویل عرصے کے بعد ہم یہاں اُس مقام پر پہنچے ہیں جہاں امن و سکون کی فضا قائم ہے ۔ جہاں لوگ اپنے خواب اور خواہشات کو پورا کرنے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔ امن و سکون کے بغیر ترقی ناممکن ہے ‘۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘جب ترقی ہوگی تو سبھی اس کے ثمرات سے مستفید ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیے ۔ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ دنیا کیسے آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہندوستانکیسے آگے بڑھ رہا ہے ۔ بہتر مستقبل کا راز تشدد سے دوری میں ہی مضمر ہے ۔ تشدد چھوڑ کر امن کو گلے لگانے سے جموں و کشمیر میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے ‘۔فوجی سربراہ نے کہا کہ فوج کا کام تشدد کی سطح کو کم کرنا ہے تاکہ مقامی انتظامیہ تعمیر و ترقی کا کام بخوبی انجام دے سکے ۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک میں امن قائم کرنا حکومت، مقامی انتظامیہ کا کام بھی ہے اور فوج کا بھی اس میں ایک رول ہے ۔ فوج کا کام تشدد کی سطح کو کم کرنا ہے تاکہ مقامی انتظامیہ تعمیر و ترقی کا کام کر سکے ‘۔