بنگلورو ۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ بسواراج بومائی نے آج کہا کہ انہوں نے حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے جو ملاقات کی ہے وہ کورونا صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات سے متعلق تھی ریاست میں قیادت کی تبدیلی کے سلسلہ میں نہیں۔ مسٹر بومائی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے دورہ دہلی کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا ۔ کورونا مسئلہ پر بات چیت کے علاوہ دہلی کے دورہ کا کوئی اور مقصد نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قیادت کی تبدیلی کے مسئلہ پر بات تک نہیں کی ہے ۔ یہ افواہیں کشت کر رہی ہیں کہ مسٹر بومائی نے بی جے پی کے نائب صدر چیف منسٹر ایڈورپا کے فرزند بی وائی وجئیندر کیس اتھ دہلی کا دورہ کیا تھا تاکہ ریاست میں قیادت کی تبدیلی کے سلسلہ میں بات چیت کی جاسکے ۔ کچھ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بسواراج بومائی آئندہ چیف منسٹر بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قیادت میں تبدیلی کی بات ہی غلط ہے ۔ ایک ایسے وقت جبکہ ہر کوئی کورونا سے متحدہ جنگ کر رہا ہے اس طرح کی سوچ بھی نہیں ابھرنیچ اہئے ۔ یہ سب کچھ حقائق سے بعید ہے اور جھوٹ ہے ۔ مسٹر بومائی نے کہا کہ امیت شاہ نے ریاست میں کورونا سے نمٹنے کے اقدامات پر مسرت کا اظہار کیا ہے تاہم اس بات پر زور بھی دیا ہے کہ ریاست میں کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ بومائی نے کہا کہ انہوں نے ریاست کو آکسیجن کی ضرورت سے بھی وزیر داخلہ کو واقف کروادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تیار کی جانے والی آکسیجن کے استعمال کی اجازت بھی طلب کی گئی ہے تاکہ دوسری ریاستوں سے یہاں منتقل کرنے کی نوبت نہ آئے اور ٹینکرس کا مسئلہ پیدا نہ ہونے پائے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے چار ٹینکرس فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔