جینتا گھوسل
بی جے پی نے بہار اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد اب اپنی ساری توجہ مغربی بنگال پر مرکوز کردی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کسی نہ کسی بہانے سے مغربی بنگال کا دورہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی حکومت کے بارے میں عوام کو حقائق سے واقف کروانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے بارے میں ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے لیڈران ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی جھوٹ کے سہارے اور ہیرا پھیری کے ذریعہ اقتدار حاصل کررہی ہے (ویسے بھی راہول گاندھی نے بار بار یہ الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی، الیکشن کمیشن کے ساتھ ساز باز کے ذریعہ اقتدار حاصل کرتی جارہی ہے اور بہار اسمبلی انتخابات میں بھی ہیرا پھیری ہوئی اور بی جے پی ۔ جے ڈی یو کو غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی) بہرحال امیت شاہ نے مغربی بنگال کا تین روزہ دورہ کیا۔ اس دورہ میں انھوں نے دعویٰ کیاکہ بی جے پی ریاست میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ اس کے لئے ’’مشن بنگال‘‘ شروع کردیا ہے۔ جہاں تک متوا کمیونٹی کا سوال ہے SIR نے متوا کمیونٹی میں اُلجھن پیدا کردی ہے۔ امیت شاہ کا الزام ہے کہ ترنمول کانگریس متوا کمیونٹی کو شہریت سے محروم رکھنا چاہتی ہے لیکن بی جے پی شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ انھیں ہندوستانی شہریت عطا کرے گی۔ امیت شاہ کہتے ہیں کہ متوا کمیونٹی میں عدم تحفظ کا کوئی احساس نہیں ہے۔ امیت شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممتا بنرجی لاکھ کوششوں کے باوجود متوا کمیونٹی کی تائید و حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ آپ کو بتادیں کہ متوا کمیونٹی کی جن علاقوں میں اکثریت ہے وہاں مرکزی وزیر شنتانو ٹھاکر اور ٹی ایم سی لیڈر ممتا بالا ٹھاکر کے درمیان عداوت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ان علاقوں میں سیاسی مسابقت اور داخلی تناؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بی جے پی انتخابی مہم میں ہندو شناخت، مسلمانوں کی خوشامد پسندی، ہندوتوا ایجنڈہ (بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈہ) ممتا بنرجی کی جانب سے مذہبی علامات کے استعمال جیسے موضوعات کو اُٹھا سکتی ہے۔ بی جے پی مندر کی تعمیر کو بھی اپنی کامیابی کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔ صرف امیت شاہ ہی نہیں بلکہ وزیراعظم نریندر مودی بار بار دراندازی کا مسئلہ اُٹھارہے ہیں۔ SIR عمل کے دوران لاکھوں رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے اور کئے جارہے ہیں جس پر مودی، امیت شاہ اور بی جے پی قائدین مسلسل بیانات دے رہے ہیں اور اپوزیشن قائدین کو نشانہ بناکر ان پر یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ لوگ دراندازی کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ ویسے بھی دراندازی بی جے پی کے لئے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ آر ایس ایس کے قیام کے ساتھ ہی دراندازی کو ایک بہت بڑے اور قابل تشویش مسئلہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بی جے پی کو اُمید ہے کہ مغربی بنگال میں SIR کو استعمال کرتے ہوئے وہ عوام کو یہ بتائے گی کہ ہم مغربی بنگال جیسی سیاسی لحاظ سے اہم ترین ریاست کو دراندازی سے پاک کریں گے لیکن بی جے پی کیلئے اسے ایک مسئلہ بنانا خود ایک چیلنج بن سکتا ہے کیوں کہ وہاں اس کا مقابلہ ممتا بنرجی سے ہے۔ امیت شاہ مغربی بنگال میں مذہبی تنظیموں اور اداروں کے دفاتر بھی دورہ کررہے ہیں جن میں ISKCON اور سسٹر نویدیتا کی قیامگاہ بھی شامل ہے۔ ان مقامات کا حال ہی میں چیف منسٹر ممتا بنرجی نے دورہ کیا ہے۔ انھوں نے ISKCON سے قریب رہ کر کام کیا ہے جن میں دیگھا میں واقع جگناتھ مندر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ 5 ڈسمبر کو ممتا بنرجی نے سسٹر نویدیتا کی قیامگاہ کا دورہ کیا جبکہ امیت شاہ نے ممتا کے ان دوروں کو سیاسی رنگ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ امیت شاہ کو مغربی بنگال میں جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں بنگال بی جے پی میں قیادت کا بحران، تنظیمی کمزوری شامل ہیں۔ اس طرح کے بحران کے حل کے لئے عوام سے قریبی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی داخلی خلفشار کا شکار ہے۔ پارٹی لیڈروں اور تنظیمی اکائیوں کے درمیان عداوت پائی جاتی ہے۔ امیت شاہ نے ان اختلافات کو دور کرنے خود شخصی طور پر مداخلت کی ہے تاکہ پارٹی میں اتحاد و اتفاق پیدا کیا جاسکے۔ امیت شاہ یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی حکومت میں کرپشن زوروں پر ہے۔ امیت شاہ اپنی سیاسی حکمت عملی کے ذریعہ کرپشن کو ایک اور مسئلہ بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ کولکتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے بار بار اس مسئلہ کو چھیڑا اور یہ الزام عائد کیاکہ ٹی ایم سی کے وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمان رشوت خوری اور بدعنوانی میں ملوث ہے۔ انھوں نے ریاستی بی جے پی یونٹ کو ہدایت دی کہ وہ کرپشن کو مسئلہ بنائیں۔ اگرچہ امیت شاہ اور بی جے پی قیادت مغربی بنگال پر قبضہ کی پوری پوری کوشش کررہی ہے لیکن انھیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ ممتا بنرجی سے مقابلہ کرنا کوئی آسان نہیں ہے (اور اب تو ممتا بنرجی نے امیت شاہ سے دراندازی کے مسئلہ پر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کیا ہے)۔ انھوں نے مودی اور امیت شاہ کو نااہل بھی قرار دیا ہے۔
