امیت شاہ کے اجلاس میں تلنگانہ کی نمائندگی پر اُلجھن برقرار

   

مرکز سے کشیدگی کے باعث تاحال کوئی فیصلہ نہیں، علاقائی کونسل کے اجلاس کے دن کابینہ اور لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے کیرالا میں 3 ستمبر کو جنوبی ریاستوں کی علاقائی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں تلنگانہ حکومت کی شرکت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ امیت شاہ نے جنوبی ہند کی ریاستوں کے باہمی تنازعات کی یکسوئی کیلئے یہ اجلاس طلب کیا ہے۔ مرکزی حکومت اور بی جے پی سے ٹی آر ایس حکومت کی دوری کے سبب تلنگانہ کے نمائندہ کی شرکت کو غیر یقینی تصور کیا جارہا ہے۔ 2016 سے چیف منسٹر کے سی آر نے ایک بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی اور وزیر داخلہ اور چیف سکریٹری کو نمائندگی کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ وزیر داخلہ محمود علی اور چیف سکریٹری سومیش کمار کی شرکت کو بھی غیر یقینی کہا جارہا ہے کیونکہ چیف منسٹر نے 3 ستمبر کو دن میں ریاستی کابینہ اور شام میں ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ وزیر داخلہ کو دونوں اجلاسوں میں شرکت کرنا ہے جبکہ چیف سکریٹری کابینہ کے اجلاس میں شریک رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کے باعث تلنگانہ حکومت نے اظہار ناراضگی کے طور پر عدم شرکت کا منصوبہ بنایا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شرکت کے بارے میں چیف منسٹر کے دفتر سے تاحال کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ مرکز نے گزشتہ دنوں تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی تھی کہ برقی بقایا جات کے طور پر 6756 کروڑ روپئے آندھرا پردیش کو ادا کئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے بجائے اسپیشل چیف سکریٹری فینانس کے رام کرشنا راؤ اور منیجنگ ڈائرکٹر ٹرانسکو ڈی پربھاکر راؤ کو شرکت کیلئے کہا جاسکتا ہے بشرط یہ کہ چیف منسٹر اجلاس میں تلنگانہ کی نمائندگی کا فیصلہ کریں۔ 2016 میں اس وقت کے وزیر داخلہ ایم نرسمہا ریڈی نے شرکت کی تھی جبکہ 2018 میں تلنگانہ سے کوئی نمائندگی نہیں رہی۔ر