بی جے پی، بی آر ایس اور مجلس میں تال میل، مسلم تحفظات مذہبی بنیادوں پر نہیں
حیدرآباد۔/25 اپریل، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مخالف سیکولر بیانات پر ریاستی حکومت کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کے سلسلہ میں ہنمکنڈہ ضلع میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ امیت شاہ نے چیوڑلہ کے جلسہ عام میں سیکولرازم اور جمہوریت کے خلاف بیان بازی کی ہے لیکن افسوس کہ چیف منسٹر کے سی آر نے تنقید تک نہیں کی۔ بھٹی وکرامارکا نے سوال کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کیا ہے۔ اس کے علاوہ مجلس اور بی آر ایس کا بی جے پی سے کیا سمجھوتہ ہے۔ ان باتوں کو عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سیاسی مفادات کیلئے بی جے پی، بی آر ایس اور مجلس مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں۔ مسلم تحفظات کی برخواستگی سے متعلق امیت شاہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کانگریس حکومت نے بی سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر سماجی اور معاشی پسماندہ مسلم طبقات کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے یہ تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو دستور میں تحفظات کی گنجائش ہے۔ بی جے پی نے ان طبقات پر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایس سی، ایس ٹی طبقات کو تحفظات کی فراہمی کانگریس کا کارنامہ ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا عمل فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے بی سی سب پلان کا اعلان کیا جائے۔ تلنگانہ میں 2 لاکھ 90 ہزار کروڑ کا بجٹ ہے جس میں سے 50 فیصد بی سی طبقات کیلئے مختص کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے نئی ریاست کی ترقی کیلئے کے سی آر کو دو مرتبہ اقتدار حوالے کیا لیکن کے سی آر نے اس موقع کا بیجا استعمال کیا ہے۔ کے سی آر خاندان نے عوامی رقومات کی لوٹ مچادی ہے۔ بی جے پی نے ہرسال دو کروڑ روزگارکا وعدہ کیا تھا گذشتہ نو برسوں میں 18کروڑ روزگار کی فراہمی پر بنڈی سنجے عوام کو جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے کانگریس کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ر