75 حلقے خواتین کیلئے محفوظ، رائے دہی کا فیصد بڑھانے خواتین میں شعور بیداری ضروری
حیدرآباد : بلدی انتخابات میں کسی سیاسی جماعت کو کامیاب بنانا ہے اور کس سیاسی جماعت کے امیدواروں کو ناکام بنانا ہے یہ قوت بیشتر تمام بلدی حلقہ جات میں خواتین کے پاس محفوظ ہے اور خواتین کی بڑی تعداد اگر رائے دہی میں حصہ لیتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرتی ہیں تو ایسی صور ت میں کسی بھی سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ان کے ووٹوں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں خواتین رائے دہندوں کی تعداد 35لاکھ 46 ہزار 847ہے جو کہ مرد رائے دہندوں سے محض 2.5لاکھ کم ہے علاوہ ازیں خواتین رائے دہندوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود 150 بلدی حلقوں میں 75 بلدی حلقہ جات کو خواتین کے لئے محفوظ کیا جاچکا ہے اور شہر حیدرآباد کے مئیر کا عہدہ بھی خواتین کیلئے محفوظ ہے ۔ سیاسی جماعتو ںکے قائدین کا کہناہے کہ اگر شہر حیدرآباد کی خواتین کو اس بات کا علم ہو اور ان میں شعور اجاگر ہوتو وہ اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے ذریعہ جی ایچ ایم سی مئیر کے عہدہ پر صنف نازک کی کامیابی کیلئے زیادہ سے زیادہ رائے دہی میں حصہ لیں گی اسی لئے خواتین میں شعور اجاگر کرتے ہوئے رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود بلدی حلقو ں میںجو خواتین کیلئے محفوظ ہیں ان بلدی حلقہ جات میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں کیونکہ مقامی خواتین کی جانب سے خاتون رائے دہندوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں رائے دہی میں حصہ لینے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ خاتون کارکنوں کی جانب سے گھروں تک پہنچتے ہوئے کی جانے والی انتخابی تشہیر شہر حیدرآباد کے رائے دہندوں کو متوجہ کرنی لگی ہے کیونکہ بیشتر خاتون رائے دہندوں کی جانب سے تشہیر کا منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے تمام خاتون کارکنوں کے ساتھ علاقہ کے عوام سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں کامیاب کرنے کی اپیل کی جار ہی ہے۔ یکم ڈسمبر کو منعقد ہونے والے انتخابات میں ریاست میں برسراقتدار سیاسی جماعت کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے محفوظ نشستوں پر خواتین کو میدان میں اتارا گیا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے امیداروں کو خواتین میں شعور اجاگر کرتے ہوئے رائے دہی کے فیصد میں اضافہ پر زور دیا جانے لگا ہے۔