رجسٹریشن کے موجودہ اسٹیٹس کو چیک کرلیں
مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا شاہی مسجد میں خطاب
حیدرآباد، 28 مارچ (راست) مولانا حافظ ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی القادری امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے کہا ہے کہ تلنگانہ میں 30 مارچ تک امید پورٹل میں وقف جائیداوں کے اندراج کا وقت باقی ہے۔ جن ذمہ داران نے مساجد، درگاہیں، خانقاہیں، عاشور خانے اور دیگر وقف جائیدادوں کا اندرج ابھی تک نہیں کرایا ہے؛ وہ جلد سے جلد رجسٹریشن کرا لیں اور جنھوں نے اندراج کرا لیا ہے؛ وہ امید پورٹل کی ویب سائٹ چیک کر کے اس کا موجودہ اسٹیٹس معلوم کرلیں۔ پورٹل میں ’میکر‘، ’چیکر‘ اور ’ایپرو یا ریجیکٹ‘ کے تین مراحل ہیں۔ اسے جانچ لیں کہ کس کی جائیداد کا رجسٹریشن ہوا یا وہ مسترد ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں شاہی مسجد باغ عام میں مذکورہ تاریخ تک بعد نماز مغرب سے رات نو بجے تک کاونٹرکی سہولت ہوگی۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ جنگ، جنگ ہے۔ جنگ سے پیدا شدہ حالات سے صرف جنگ لڑنے والے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت کو جنگ سے زیادہ امن کے حالات پسند ہیں۔ جنگ عارضی ہے۔ امن دنیا کو مطلوب ہے۔ اس وقت پورا مشرق وسطی کرب کی حالت میں ہے۔ آسمان سے آگ برسائی جارہی ہے۔ ہر رات خوف، دہشت اور تباہی و بربادی ہے۔ جنگ دو طاقتوں کے تصادم سے ہوتی ہے اور نقصان عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ دنیا میں معاشی بحران محسوس کیا جارہا ہے اور لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ تعلیمی نظام متاثر ہورہا ہے۔ ایسے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اللہ فرماتا ہے کہ ’’اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں صرف ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا، بلکہ عام لوگ بھی اس سے متاثر ہونگے اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘۔ ایسے موقع پر بہ حیثیت امت ہمیں اپنے اتحاد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ہم غیر ضروری طور پر وہاں کے حالات پر بحث و مباحثے میں پڑ کر اپنے آپ میں انتشار پیدا نہ کریں۔ یہ مشرق وسطی پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے اور اپنے آپ کو سوپر پاور ثابت کرنے کی لڑائی ہے۔ ان حالات میں ہم مظلوم کا ساتھ دیں، ظالم کا ساتھ ہرگز نہ دیں۔ ہماری فکر اور ہماری دعائیں ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہو۔ اس جنگ میں مظلوم ایران ہے۔ غیر ضروری طور پر ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ اس کی اعلی سطح کی قیادت کو ختم کیا گیا۔ اسی وجہ سے پوری دنیا کے ہمدردی ایران کے ساتھ ہے۔ ہمیں ایسے موقع پر اپنی خواہشات کو کم کرکے اپنی ضروریاتِ زندگی پر توجہ کرنا چاہیے۔ ہم اپنی خواہشات پر مکمل طور پر روک لگا دیں اور ضرورت کے مطابق زندگی گزرایں۔ پٹرول، گیس، پیسے، اناج، اپنی توانائی کی بچت اب فرض کی طرح ہوگئی ہے۔ ہم کتنے زیادہ دن تک سروائیو کرنا چاہتا ہیں، اس کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ شادیوں کے موسم میں آسان انداز میں اور مختصر اخراجات والی شادی کریں۔ اسلام میں اسراف تو ہر وقت حرام ہے۔