اناؤعصمت ریزی میں کلدیپ کوسزائے موت کا مطالبہ

   

Ferty9 Clinic

ملزم کو پھانسی دینے پر ہی میرے والد کے ساتھ بھی انصاف ہوگا ،سپریم کورٹ پر مجھے بھروسہ ، متاثرہ کا اظہار خیال
نئی دہلی، 29 دسمبر (آئی اے این ایس) سپریم کورٹ کی جانب سے اناؤ عصمت ریزی مقدمے کے مجرم اور سابق اتر پردیش ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگرکو دی گئی ضمانت پر روک لگائے جانے کے بعد، متاثرہ لڑکی نے پیرکے روز اس کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسی صورت میں اس کے والد کو انصاف مل سکے گا۔خبر رساں ادارے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے متاثرہ نے کہا کہ اس نے تاحال اپنے والد کی تیرہویں (آخری رسومات) ادا نہیں کی ہیں۔انہوں نے کہا میرے والدکو 2018 میں قتل کردیا گیا تھا، اور تب سے ان کی روح کو سکون نہیں ملا ہے۔ میرے والد کو سکون تب ہی ملے گا جب قاتلوں اور عصمت ریزی کرنے والوں کو پھانسی دی جائے گی۔ صرف اسی صورت میں میرے والد کو انصاف ملے گا۔ عصمت ریزی مقدمہ کے علاوہ سینگر پر 2018 میں متاثرہ کے والد کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے، جس میں اسے قصوروار ٹھہرایا گیا اور سزا سنائی گئی۔ سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ نے کہا کہ اسے یقین ہے کہ آخرکار انصاف کی جیت ہوگی۔انہوں نے کہا مجھے سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے اور یہ اعتماد برقرار رہے گا کہ عدالت انصاف فراہم کرے گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ضمانت دیتے وقت جج کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔ صرف جج ہی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کتنی ہمدردی دکھائی گئی۔ متاثرہ نے مزید کہا کہ ملزم کے ساتھ غیر ضروری نرمی برتی گئی جبکہ متاثرہ کو مسلسل اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا اتنی ہمدردی دکھائی گئی کہ جج نے اسے ضمانت دے دی، جبکہ متاثرہ اپنے گھر میں قید ہوکر رہ گئی۔ عصمت ریزی کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ متاثرہ نے ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کی جدوجہد کے دوران اس کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا میں ان سب لوگوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے میری حمایت کی اور انصاف کی اس لڑائی میں میری مدد کی۔اپنے عزم کو دہراتے ہوئے متاثرہ نے کہا مجھے سپریم کورٹ پر یقین تھا کہ انصاف ملے گا۔ میری جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی۔ میں اس مقدمہ کو اس وقت تک لڑوں گی جب تک اسے سزائے موت نہیں دی جاتی۔ صرف اسی صورت میں مجھے اور میرے والد کو انصاف ملے گا۔ادھر متاثرہ کی والدہ نے بھی سپریم کورٹ کی مداخلت پر عدالت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا میں سپریم کورٹ کی شکر گزار ہوں۔ عدالت نے خصوصی طور پر ہمارا مقدمہ سننے کے لیے کارروائی کی، جس کے لیے ہم بہت ممنون ہیں۔ میں انصاف فراہم کرنے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔