نئی دہلی۔21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) یو پی کے ایک پولیس کانسٹیبل نے دہلی ہائی کورٹ میں اپنے خلاف الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست پیش کی ہے۔ اس پر انائو عصمت ریزی کی متاثرہ خاتون کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان کی لڑکی کا غیر قانونی طور پر اس کے پاس موجود ہتھیاروں کے ذریعہ قتل کیا تھا۔ کانسٹیبل امیر خان نے اپنی درخواست میں ادعا کیا کہ تحت کی عدالت میں غلط طریقہ سے دو مقدمات کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے جو تحت کی عدالت نے 13 اگست کو برطرف بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سینگر اور دیگر 9 افراد پر جو دفعہ 302، 506، 341، 120B اور 193 قانون تعزیرات ہند اور اسلحہ قانون کی دفعہ 25 کے تحت ملزم قرار دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دفعہ 323، 324، 16، 167 بھی شامل ہیں۔ عدالت نے 3 پولیس عہدیداروں کی ضمانت پر رہائی منسوخ کردی ہے۔ ان میں ایک پولیس اسٹیشن انچارج اور ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔