اجلاسوں میں عدم اتفاق رائے ، حمایت سے متعلق فیصلہ مؤخر
حیدرآباد۔3۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں آئندہ انتخابات میں بھارت راشٹر سمیتی کی حمایت کے معاملہ میں مذہبی و ملی تنظیموں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے لگے ہیں اور بیشتر تنظیموں میں اب بی آر ایس کی حمایت کے معاملہ میں تیار کئے جانے والے منصوبوں پر ضرب لگنے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتراضلاع میں اس سلسلہ میں ملی تنظیموں اور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے مختلف اجلاس منعقد کئے جانے لگے ہیں اور ان اجلاسوں میں ریاستی حکومت کی ناکامیوں اور کانگریس کو حاصل ہونے والے استحکام کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کے علاوہ کانگریس کو حاصل ہونے والے استحکام کے نتیجہ میں آئندہ عام انتخابات میں حاصل ہونے والے فوائد پر مشاورت کی جانے لگی ہے۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ یوم شہر حیدرآباد کی ایک سرکردہ ملی تنظیموں کے ذمہ داروں کے اجلاس کے دوران تنظیم کی قیادت جو کہ بھارت راشٹر سمیتی کی حمایت کے معاملہ میں بضد تھی اسے اپنے ہی زائد از 70 فیصد ذمہ داروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں بی آر ایس کی تائید یا مخالفت کے معاملہ میں تنظیموں کے ذمہ داروں نے فیصلہ مؤخر کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی سے گذشتہ کئی برسوں سے قربت رکھنے والی تنظیم کے ذمہ داروں کی جانب سے اجلاس کے دوران یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی تھی کہ ریاست تلنگانہ کو فسادات سے پاک رکھنے کے علاوہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں لیکن اجلاس میں شریک ذمہ داروں کی اکثریت نے قائدین کی اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے گذشتہ 9 برسوں کے دوران محض زبانی وعدے کئے گئے ہیں جبکہ اگر عملی طور پر موجودہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو حکومت نے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے معاملہ میں کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے پروپگنڈہ کے متعلق تنظیم کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاست میں مسلمانوں کے لئے کوئی منفرد کارنامہ انجام نہیں دیا گیا بلکہ دیگر اقوام کو جتنی مراعات و سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی ہے ان کے برابر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ اس ملی تنظیم کے علاوہ دیگر مذہبی تنظیموں میں بھی اسی طرح کے اختلافات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں محض وعدوں کی بنیاد پر دوبارہ بی آر ایس کی تائید نہیں کی جاسکتی ۔مسلمانوں کو دو مرتبہ وعدوں پر انحصار کروایا گیا اور اب دوبارہ ان پر اعتماد کرنے کے حق میں ریاست کے مسلمان نہیں ہیں ۔