انتخابات کے بعد آر ٹی سی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا ۔ کے سی آر

   

آٹوؤں کے فٹنس چارجس کو معاف کردیا جائے گا ، کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو ایمرجنسی ، انکاونٹر اور فاقہ کشی کا احیا ہوگا
سونچ سمجھ کر عوام بی آر ایس کو ووٹ دیں ، چار انتخابی جلسوں سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بی آر ایس ریاست میں تیسری مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ حکومت تشکیل دیتے ہی آٹوز سے متعلق فٹنس چارجس اور سرٹیفیکٹ کی اجرائی کو معاف کرنے کا اعلان کیا جائے گا ۔ آئندہ پانچ سال کے دوران ریاست میں جنگی خطوط پر مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آج اسمبلی حلقہ جات اسٹیشن گھن پور ، ماناکنڈور ، نکریکل اور نلگنڈہ میں منعقدہ بی آر ایس آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ٹریفک پولیس دھوپ میں دھول بھری سڑکوں پر خدمات انجام دیتے ہیں جس کی وجہ انہیں سانس لینے کے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں انہیں تنخواہوں کے علاوہ 30 فیصد الاونس دیا جارہا ہے ۔ سارے ملک میں سب سے زیادہ ریاست تلنگانہ میں ہوم گارڈس کی تنخواہ دی جارہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع سے روزگار کے لیے شہر پہونچکر کئی لوگ آٹو رکشہ چلا رہے ہیں ۔ میں آج انہیں ایک خوشخبری دے رہا ہوں پہلے ان کی آمدنی کم ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے ۔ ملک بھر میں آٹو رکشہ راں سے بڑے پیمانے پر ٹیکس وصول کیا جارہا ہے ۔ بی آر ایس کی حکومت تشکیل پانے کے بعد ٹیکس کو منسوخ کردیا جائے گا۔ ان سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا ۔ انہیں سال میں ایک مرتبہ فٹنس کرانے کا لزوم ہے ۔ فٹنس کرانے کے لیے 700 روپئے چارجس وصول کئے جارہے ہیں ۔ ساتھ ہی سرٹیفیکٹ کی اجرائی کے لیے 500 روپئے ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دونوں چارجس ملا کر جملہ 1200 روپئے کا آٹو رکشہ چلانے والوں پر مالی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ تیسری مرتبہ بی آر ایس حکومت تشکیل پانے کے بعد فٹنس چارجس کو برخاست کردیا جائے گا ۔ فٹنس چارجس سرٹیفیکٹ چارجس کو منسوخ کردیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کو تلنگانہ کی نمبر ون دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ فضل علی کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لیے بغیر کانگریس پارٹی نے تلنگانہ کو زبردستی آندھرا پردیش میں ضم کردیا ۔ ایسی کانگریس پارٹی جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کے درمیان پہونچ رہی ہے ۔ اس پر بھروسہ کرتے ہوئے ریاست کے مستقبل کو خطرے میں نہ ڈالیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ انتخابات ہوتے ہی دوسرے دن آر ٹی سی ملازمین کی خدمات کو مستقل کردیا جائے گا ۔ اس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس قائدین ریاست میں اندرا اماں راجیم لانے کی بات کررہے ہیں ۔ کیا ملک اور ریاست میں دوبارہ ایمرجنسی نافذ کردی جائے گی ۔ انکاونٹر کے دور کا احیاء ہوجائے گا ۔ اس پر عوام کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر کانگریس کے دھوکوں سے سبق حاصل نہیں کیا گیا تو انتخابات میں ٹکٹ فروخت کرنے والی کانگریس پارٹی ریاست تلنگانہ کو ہول سیل میں فروخت کردے گی ۔ تمام فلاحی اسکیمات کو ختم کردے گی اور ترقیاتی کاموں کو روک دے گی ۔ جس کے بعد ریاست کے عوام مختلف مسائل سے دوچار ہوجائیں گے ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں امن خوشی ، ترقی ، فلاح و بہبود 24 گھنٹے برقی ، نلوں کے ذریعہ پینے کا پانی ، غریب لڑکیوں کی شادیوں کی مالی امداد ، معیاری تعلیم حاصل کرنے کے لیے تعلیمی ادارے علاج کے لیے کارپوریٹ طرز کے سرکاری ہاسپٹلس ہیں جہاں طبی امداد مفت ہے ۔ عوام فیصلہ کریں انہیں بی آر ایس چاہئے یا کانگریس سونچ سمجھ کر 30 نومبر کو ووٹ دیں ۔۔ ن