انتخابات کے بعد اسرائیل میں سیاسی تعطل برقرار، نتن یاہو کے اقتدار کو خطرہ

   

یروشلم ۔ 20 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل میں انتخابی نتائج کو اب تقریباً طئے شدہ تصور کیا جارہا ہے۔ اسرائیل کی الیکشن کمیٹی نے یہ اعلان کیا ہیکہ نتائج میں ان 14 پولنگ اسٹیشنوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جہاں نتائج کی توثیق ہنوز جاری ہے۔ بلیو اینڈ وائیٹ پارٹی کے قائد بینی گانزکو اکثریت حاصل ضرور ہوئی ہے لیکن وہ حکومت تشکیل دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ کمیٹی کے مطابق گانزکی پارٹی کو 33 نشستوں پر اور نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 31 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ قطعی اور مکمل نتائج کا اعلان چہارشنبہ کو کیا جائے گا جس کے بعد اسرائیلی میڈیا میں یہ خبریں گشت کررہی ہیں 99.8 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ انتخابی نتائج نے نتن یاہو کی طویل حکمرانی کو خطرہ سے دوچار کردیا ہے۔ انہوں نے گانزکو لیکوڈ پارٹی کے ساتھ ایک اتحادی حکومت تشکیل دینے کی پیشکش بھی کی ہے لیکن گانزنے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ اس صورت میں وہ (گائنز) وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے کیونکہ ان کی بلیو اینڈ وائیٹ پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں اسرائیل کے صدر رووین ریولین تمام پارٹیوں کے ساتھ اتوار کے روز ایک مشاورتی اجلاس منعقد کریں گے تاکہ ملک میں آئندہ حکومت جلد سے جلد تشکیل دی جاسکے۔