نئی دہلی انتخابات قریب ہیں اور ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کی جیت کے واضح امکانات موجود ہیں۔ ایسے میں بہت سے عیسائیوں کو خدشہ ہے کہ ان پر دوبارہ حملہ ہو سکتے ہیں اور انہیں پھر سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دیپتی 2008 کے ان متاثرین میں شامل ہے، جب ایک ہندو پنڈت اور اس کے چار پیروکاروں کے قتل کے بعد مشرقی ریاست اوڈیشہ کے کچھ حصوں میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس قتل کا الزام مقامی عیسائیوں پر عائد کیا گیا اور اس کے انتقام میں کم از کم 101 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ دیپتی کی عمر اس وقت 19 برس تھی اور اسے ہندو قوم پرستوں کے ایک ہجوم نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا کیوں کہ اس کے چچا نے کیتھولک مذہب ترک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دیپتی کا اصل نام ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ گھروں میں کام کرنے والی اس 35 سالہ ملازمہ کا روتے ہوئے کہنا تھا کہمجھے وہ ایک ایک لمحہ یاد ہے۔ میں نے اپنا سارا بچپن وہاں گزارا تھا، میں ان کو ان کی آواز سے پہچان سکتی ہوں۔