ماسکو، 23 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ (او اے ایس) نے انتخابات کے نتائج پر تنازع کے بعد بولیویا کے انتخابی نتائج کی تصدیق کرنے کی دعوت کو قبول کر لیاہے ۔ او اے ایس کے جنرل سکریٹری لوئیس الماگرو نے اس کی اطلاع دی۔ مسٹر الماگرو نے سرکاری قبولیت کے مکتوب کو ٹویٹ کر کے کہا‘‘بولیویا کے وزیر خارجہ کی جانب سے او اے ایس کو انتخابی نتائج کو جانچنے کی دعوت کواو اے ایس قبول کرتا ہے ۔ اس سے قبل منگل کو او اے ایس نے اعلان کیا تھا کہ وہ بولیویا کے انتخابی نتائج کو لے کر چہارشنبہ کو اجلاس کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ منگل کو بولیویا کے وزیر خارجہ ڈیاگو پیری نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ حکومت او اے ایس کو انتخابات کے نتائج کے عمل کوجانچنے کی دعوت دے گی۔ اس درمیان بولیویا سپریم الیکٹورل ٹریبونل کے نائب صدر انتونیو کوسٹاس نے منگل کو انتخابی نتائج منسوخ کرانے کے اپنے فیصلہ پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نتیجے منسوخ کرانے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ خیال رہے کہ بولیویا کے سپریم الیکٹورل ٹریبونل نے گزشتہ پیر کو اعلان کیا تھا کہ 95.43 فیصد ووٹوں کی گنتی کی جا چکی ہے اور صدر ایوو مورالس کو 46.86 فیصد جبکہ ان کے مخالف کارلوس میسا کو 36.72 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں اور دونوں کے درمیان 10.16 فیصد ووٹوں کا فرق ہے۔ بولیویا میں صدارتی انتخابات جیتنے کیلئے امیدوار کو پہلے راؤنڈ میں 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں یا پھر کسی بھی امیدوار کو کم از کم 40 فیصد ووٹ حاصل کر اپنے مخالف سے 10 فیصد کا فرق رکھنا ہوتا ہے۔ گزشتہ اتوار کو جاری ابتدائی نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں دوسرے راؤنڈ کا انتخاب کرایا جانا ہے لیکن میسا نے بولیویا کی حکومت پر انتخابی فراڈ کا الزام لگاتے ہوئے ان نتائج کو قبول نہیں کیا تھا۔
