انتخابی جیت کیساتھ ہی مختار انصاری کے بیٹے پر کارروائی

   

Ferty9 Clinic

مقدمہ میں کئی دفعات کا اضافہ‘ کوتوالی پولیس میں ایف آئی آر درج

لکھنو: جیل میں قید سیاست داں مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری نے جیسے ہی انتخابی فتح حاصل کی، پولیس نے ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران افسران کو مبینہ طور پر دھمکی دینے کے معاملہ میں موپولیس نے ان کے خلاف درج مقدمہ میں تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کا اضافہ کر دیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ مو سشیل گھولے نے کہاکہ عباس انصاری کے خلاف 4 مارچ کو درج مقدمہ میں قانون صلاح لینے کے بعد کئی دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔عباس نے 3 مارچ کی شب مو کے پہاڑ پور علاقے میں منعقدہ انتخابی جلسہ عام سے مبینہ طور پر ریاستی حکومت کے ملازمین کو دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ سماج وادی پارٹی کی قیادت والی حکومت کے قیام کے بعد افسران کو تبادلہ کرنے سے پہلے سابقہ حکومت میں اپنے کاموں کا حساب دینا ہوگا۔‘‘عباس کی تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مو پولیس نے 4 مارچ کو ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 171 ایف کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔عباس کے خلاف کوتوالی پولیس میں ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ مو صدر اسمبلی سیٹ کے ریٹرننگ آفیسر کے ذریعہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بھی مناسب کارروائی کرنے کی درخواست کے ساتھ رپورٹ بھیجی گئی تھی۔الیکشن کمیشن نے مؤ حکام کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد عباس کی انتخابی مہم پر 24 گھنٹے کی پابندی عائد کر دی تھی۔ عباس انصاری نے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) امیدوار کے طور پر مؤ سے انتخاب لڑا اور جیت حاصل کی ہے۔اترپردیش میں بی جے پی کی دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایسی کارروائیوں کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔