دیگر تمام جماعتوں کو عوامی برہمی کا سامنا
بی جے پی میں قائدین کی آپس میں عملاً مار پیٹ
حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں ۔ ہر آئے دن سیاسی پارٹیوں میں داخلی اختلافات اور عوامی مخالفت کے واقعات بھی منظر عام پر آرہے ہیں تاہم تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی عوامی مقبولیت اور فلاحی اقدامات کے سبب ایسا لگتا ہے کہ ٹی آر ایس ان اندرونی اختلافات اور عوامی برہمی سے کافی دور ہے ۔ بلدی انتخابات میں چونکہ راست مقابلہ اب ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان رہ گیا ہے اور انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں ۔ ان حالات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندرونی اختلافات تھمنے کا نام نہیں لیتے ۔ گذشتہ روز بی جے پی کے قائدین کی آپسی دھینگا مشتی نے پارٹی کے ڈسپلن کی قلعی کھول دی جب کہ پارٹی قائدین آپسی اتحاد کا عوام کے درمیان نعرہ بلند کررہے ہیں جب کہ دوسری طرف مجلس کے سربراہ اسد اویسی کو بھی سیلاب متاثرین کی امداد کے متعلق سخت عوامی برہمی کا سامنا رہا اور عوام نے شدید مخالفت کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ۔ جب کہ مجلس کے قائد اکبر اویسی کو بھولکپور میں جلسہ عام کے دوران تلخ تجربہ کا سامنا رہا ۔ اسٹیج پر مائیک تھامنے کے بعد عوامی برہمی اور مخالفت کو دیکھتے ہوئے اکبر اویسی کو اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے ہی ختم کرنی پڑی اور وہ ناراضگی کے عالم میں جلسہ گاہ سے اکبر اویسی عوامی برہمی اور ناراضگی کو دیکھتے ہوئے عوام کا شکریہ ادا کیا اور چلے گئے ۔ بھولکپور میں ہزیمت کے بعد قائد میں ناراضگی پیدا ہوگئی ۔ دوسری طرف بلدی چناؤ میں کامیابی اور بلدیہ کے اقتدار کی دعویدار بی جے پی کے کارکنوں میں داخلی اختلافات عروج پر پہونچ چکے ہیں اور راجہ سنگھ کے حامیوں نے ایک دوسرے گروپ پر حملہ کردیا اور ایک دوسرے کی شکایت مرکز تک پہونچ گئی ۔ شہر کو بھگوا رنگ میں ڈبونے کے خواہش مند خود ایک دوسرے کے دامن سے بھگوا رنگ کے کپڑے پھاڑنے لگے ۔ حامیوں کو ٹکٹ نہ ملنے سے راجہ سنگھ بی جے پی کی ریاستی قیادت سے ناراض اور اپنے آپ کو انتخابی مہم سے عملاً دور رکھے ہوئے ہیں۔۔