عوام میں ساکھ متاثر ہونے کی کسی کو فکر نہیں ۔ نظریات سے زیادہ ذاتی انا کو ترجیح کا رجحان
حیدرآباد 31 اکٹوبر(سیاست نیوز) سیاسی قائدین میوزیکل چئیر کھیل سے عوام میں اپنا اعتماد کھونے لگے ہیں اور اپنی عزت نفس کے نام پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے اپنے نظریات کو خیر آباد کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ بی جے پی سے کانگریس میں یا کانگریس سے بی آر ایس میں یا بی آرایس سے بی جے پی میں یا بی جے پی سے بی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کی طویل مدتی سیاسی زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ موجودہ دور میں سیاستدانوں کو نظریات سے زیادہ اپنی انا کی تسکین کی پرواہ ہے اور وہ اپنی ذات کی تسکین کیلئے ان جماعتوں کا بھی ساتھ دینے تیار ہوتے ہیں جن کی مخالفت ہی ان کی بنیادی جماعتوں کا نظریہ رہا تھا۔تلنگانہ انتخابات سے عین قبل مختلف جماعتوں کے نظریات کے ساتھ ایک منفرد نظریہ ابھر کر سامنے آیا ہے جو کہ ریاست میں بی آر ایس حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا ہے۔ بی آر ایس اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے طرز کارکردگی اور خاندانی حکمرانی کے نظریہ کے خلاف وہ آوازیں جو 1سال قبل تک کانگریس کی کمزور صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیکولر نظریات کو بالائے طاق رکھ کر بی جے پی میں شامل ہو رہی تھیں وہ اب دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے لگی ہیں ۔ بی آر ایس میں جو سربراہ پارٹی کے طرز کارکردگی اور نظرانداز کرنے کی پالیسی سے نالاں ہوچکے تھے وہ بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے لگے ہیں کیونکہ انہیں اب کانگریس مستحکم جماعت نظر آنے لگی ہے جبکہ چند ماہ قبل تک بھی کئی قائدین کانگریس کو بی آر ایس کے مقابلہ کا اہل تصور نہیں کر رہے تھے اور جو لوگ بی جے پی کو بی آر ایس کے مقابلہ اور اس کو شکست دینے کی اہل تصور کر رہے تھے وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے لگے تھے لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیکولر نظریات کے قائدین واپس کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے لگے ہیں لیکن کانگریس سے جو قائدین مستعفی ہوکر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں وہ دراصل ذاتی انا کی تسکین کیلئے بی آر ایس میں جارہے ہیںکیونکہ انہیں کانگریس ٹکٹ سے محروم ہونا پڑا یا وہ کانگریس کے ٹکٹ دلوانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اسی طرح بی آر ایس اور کانگریس سے اب جو قائدین بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں وہ درحقیقت بی جے پی نظریات کے حامل ہیں جو اپنی اصل کی سمت لوٹ رہے ہیں۔فی الحال ریاست میں کوئی جماعت اپنے قائدین کوپارٹی چھوڑنے سے روکنے یا کوئی جماعت کسی اور جماعت کے قائد کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے میں کسی قسم کا کوئی پس و پیش نہیں کر رہے ہیں کیونکہ بیشتر جماعتوں کے قائدین کا کہناہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل ناراض قائدین کی ایک جماعت سے دوسری جماعت میں شمولیت نئی بات نہیں لیکن انتخابات میں یہ حالات کچھ تبدیل ہوچکے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی میوزیکل چئیر سیاستدانوں کو ایک حمام کے ننگے ثابت کر رہی ہے ۔