پارٹی ٹولیوں کی گشت، گھر گھر پرچار، ووٹ کیلئے دست دراز
حیدرآباد : شہر حیدرآباد میں بلدی انتخابات کی مہم کا تیزی کے ساتھ آغاز کیا جاچکا ہے ۔ بلدی انتخابات میں امیدواروں کیلئے انتخابی مہم اور تشہیر کیلئے وقت کم ہونے کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے گھر گھر مہم کے ساتھ ساتھ انتخابی تقاریر کی جانے لگی ہیں اور شہریو ںکو یکم ڈسمبر کو رائے دہی میں حصہ لینے کیلئے مائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین محلہ جات میں پیدل دوروں کے علاوہ گروپ میٹنگس کے علاوہ مرکزی جلوسوں اور جلسوں کے انعقاد کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور ان انتخابات کے دوران سیاسی جماعتو ںکی جانب سے اپنے اپنے امیدواروں کے ترقیاتی منصوبوں کو پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ علاقہ کی ترقی کیلئے یہ امیدوار خدمات انجام دیں گے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ مجلس اتحاد المسلمین کے علاوہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی انتخابی مہم میں سرکردہ قائدین نے حصہ لینا شروع کردیا ہے اور ان انتخابات کے دوران جو صورتحال کا سامنا تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ہے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے امیدواروں کے علاوہ سیاسی جماعت کے کارکنوں کی ٹولیوں کو محلہ جات میں روانہ کیا جا رہاہے کہ تاکہ وہ اپنی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے حق میں انتخابی مہم چلاسکیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں انتخابی ماحول گرمانے کے ساتھ ساتھ شہر کی گلیو ںمیں کئی اہم قائدین نظر آرہے ہیں اور ان قائدین کی جانب سے شہریوں کو اس بات کی طمانیت دینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ شہر حیدرآباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کے علاوہ ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں صف اول کے شہرکے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے تاکہ شہر حیدرآباد کے رائے دہندوں کو راغب کروایا جاسکے۔ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے کافی اہمیت دی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں کارپوریٹرس کی تعداد کا اثر آئندہ اسمبلی انتخابات پر مرتب ہوگا اسی لئے ریاست تلنگانہ کی سرکردہ سیاسی جماعتیں اپنے کارپوریٹرس کی تعدا دمیں اضافہ کے سلسلہ میں مستعدی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جار ہی ہے کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول کیلئے کم سے کم وقت میں تشہیر کو یقینی بنایا جائے۔