’انتخابی نتائج ،اقتدار کے گھمنڈ میں اڑنے والوں پر طاقتور مار ‘

,

   

این سی پی کو بی جے پی نے بری طرح توڑا لیکن شردپوار کی پارٹی 50 نشستوں پر کامیاب ہوگئی : سامنا کا اداریہ
ممبئی 25 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا میں انتخابی نتائج کے ایک دن بعد ‘ جہاں بی جے پی کی کارکردگی توقعات سے کافی کم رہی ہے ‘ شیوسینا نے اپنی حلیف جماعت پر طنز کیا ہے اور کہا کہ بی جے پی کے حق میں کوئی مہا جن آدیش نہیں تھا اور جو نتائج آئے ہیں وہ در اصل جو لوگ اقتدار کی ہٹ دھرمی کا شکار ہیں ان کی سرزنش ہے ۔ چیف منسٹر دیویندر فرنویس نے اسمبلی انتخابات میں ریاست کے جملہ 288 حلقوں میں 200 حلقوں کا دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے اس یاترا کو مہا جن آدیش یاترا قرار دیا تھا ۔ ریاست میں21 اکٹوبر کو رائے دہی ہوئی تھی جس کے نتائج کا کل اعلان کیا گیا ہے ۔ نتائج کے موقع پر دیویندر فرنویس نے کہا تھا کہ سینا ۔ بی جے پی اتحاد کو 200 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا میں تحریر کیا ہے کہ نتائج نے اس تاثر کو غلط ثابت کردیا ہے کہ انتخابات میں کامیابی دیگر جماعتوں میں انحراف کرواتے ہوئے اور اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ ڈالتے ہوئے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اس بار شیوسینا کی نشستوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے ۔ انتخابی نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے اس اداریہ میں کہا گیا ہے کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ صرف مخالفین کو نیچا دکھانا سیاست میں کارکرد نہیں ہوسکتا ۔ انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں این سی پی اور کانگریس کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی نے این سی پی کو اس طرح سے توڑا تھا کہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ آیا شرد پوار کی قیادت والی جماعت کا کوئی مستقبل بھی رہ جائیگا یا نہیں ۔

کہا گیا ہے تاہم این سی پی نے شاندار کارکردگی دکھائی اور اس نے 50 سے زائد نشستیں حاصل کرلی ہیں جبکہ کسی قیادت سے محروم کانگریس کو بھی 44 تک نشستیں حاصل ہوگئی ہیں۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یہ نتائج در اصل ان حکمرانوں کیلئے ایک وارننگ ہے جو اقتدار کی ہٹ دھرمی کا شکار ہیں۔ یہ ان کیلئے انتباہ ہے کہ وہ اقتدار کے نشہ میں ہٹ دھرم نہ رہیں۔ یہ ان کی سرزنش ہے ۔ بی جے پی نے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں 122 نشستیں حاصل کی تھیں تاہم اس بار اسے صرف 105 پر اکتفاء کرنا پڑا ہے ۔ اسی طرح شیوسینا کو سابق میں 63 نشستیں حاصل تھیں اب یہ تعداد گھٹ کر 56 ہوگئی ہے ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ جملہ 25 نشستیں دوسری چھوٹی جماعتوں کو چلی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نے انتباہ دیدیا ہے کہ حکمران اقتدار کی ہٹ دھرمی نہ دکھائیں۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ انتخابات سے کوئی مہا جن آدیش حاصل نہیں ہوا ہے ۔ شیوسینا ترجمان میں کہا گیا ہے کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ عوام نے انتخابات کے تعلق سے بی جے پی کے اس خیال و مسترد کردیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں انحراف کرتے ہوئے اور ان جماعتوں کو توڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نتائج نے دل بدلی کرنے والوں کو بھی سبق سکھادیا ہے ۔ اداریہ میں یہ حوالہ ان قائدین کے تعلق سے دیا گیا جو انتخابات سے عین قبل این سی پی ۔ کانگریس سے ترک تعلق کرکے شیوسینا ۔ بی جے پی میں شامل ہوئے تھے ۔ ستارا لوک سبھا حلقہ سے این سی پی ٹکٹ پر منتخب اڈین راجے بھوسالے کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ستارا اقتدار کی گدی ہے کیونکہ وہاں شیواجی کا اثر تھا ۔ اڈین راجے بھوسالے نے انتخابات سے قبل این سی پی سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی اور ضمنی انتخاب میں مقابلہ کیا تھا تاہم انہیں شکست ہوگئی ۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ ستارا کے عوام نے یہ ظاہر کردیا کہ وہ شیواجی مہاراج کے نام پر سیاسی موقع پرستی کی اجازت نہیں دینگے ۔ پارٹی نے کہا کہ یہ در اصل بھوسالے کی راست شخصی شکست ہے ۔ اداریہ میں اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی گئی کہ بی جے پی اور شیوسینا کی جانب سے قبل از وقت اتحاد کے باوجود کانگریس ۔ این سی پی کو اتنی زیادہ نشستیں کیسے حاصل ہوگئیں۔ یہاں مودی اور امیت شاہ نے شدت سے مہم چلائی تھی ۔