انتخابی نتائج کے بعد منتخب کارپوریٹرس کے حقیقی رنگ آشکار

   

Ferty9 Clinic

اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ اراضی معاملات ‘ قبضوں اور مکانات کے تخلیہ پر توجہ
حیدرآباد۔انتخابات ختم ہوگئے اور نتائج آچکے ہیں اور اب قائدین کی ’داداگیری ‘ شروع ہوچکی ہے۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران شرافت کے ساتھ ووٹ طلب کرنے والے سیاسی قائدین کی داداگری شروع کی جاچکی ہے اور وہ مکانات کے تخلیہ کے علاوہ تعمیرات پر شکایات اور جبری قبضوں کے سلسلہ میں سرگرم ہونے لگے ہیں ۔شہر میں جب کبھی انتخابات کا موسم ہوتا ہے تو شریف اور باکردار نظر آنے والے قائدین کو انتخابی نتائج کے بعد پتہ نہیں کیا ہوجاتا ہے کہ وہ عوام کو ہراسانی و مظالم کا آغاز کردیتے ہیں اور ان کے عہدہ و مقام سے مرعوب ہوکر شہری خاموش مظالم سہنے لگتے ہیں ۔بلا تفریق سیاسی وابستگی تمام جماعتو ں میں ایسے افراد موجود ہیں جو ایسے معاملات کے علاوہ اراضیات کی فروخت میں ملوث ہیں لیکن اگر سرکردہ قائدین سے ایسے افراد کی پشت پناہی سے گریز کیا جائے تو ممکن ہے کہ شہریوں کو مشکل حالات کا سامنا نہ کرنے پڑے ۔ بلدی انتخابات کے دوران کئی امیدواروں نے عوام سے کئی وعدے کئے تھے اور سب سے اہم انہیں پرسکون زندگی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن نتائج کے ساتھ ہی منتخب افراد کے رنگ تبدیل ہونے لگے ہیں اور وہ دوبارہ ان معاملتوں میں ملوث ہونے لگے ہیں جن کے متعلق انہیں متنبہ کیا جاتا رہا ہے۔ سرکردہ سیاسی قائدین کی جانب سے اگر ابھی سے کارپوریٹرس پر کنٹرول نہیں کیا گیا تو نہ صرف قائدین بلکہ ان کی جماعتوں کا نام بدنام ہو گا۔بلدی انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کارپوریٹرس کی جانب سے اراضیات کے قبضہ کے حصول کیلئے کوشش اور ہنگامہ آرائی کے ویڈیو وائرل ہوئے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ بیشتر جماعتوں کے منتخبہ کارپوریٹرس کے آڈیو وائرل ہونے لگ جائیں گے کیونکہ وہ بھی اس طرح کی سرگرمیوں ملوث ہونے لگے ہیں ۔