ضعیف ماں باپ کی خاطر سماجی دھارے میں شامل ہوجانے ماؤسٹوں سے اپیل
نرمل : انتہا پسند دہشت گردی کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ حکومت کی جانب سے دی جارہی تمام سہولتیں اور ایک عام شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے گا کیوں کہ بندوق کی گولی سے دہشت پھیلائی جاسکتی ہے محبت نہیں۔ آج وہ سماج کی نہیں تو اپنے ضعیف ماں باپ کے حالات کو دیکھتے ہوئے جنگلوں سے نکل کر شہر میں آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوتے ہوئے ایک خوشگوار زندگی کی شروعات کریں۔ ان خیالات کا اظہار نرمل ضلع ایس پی سی ایچ پروین کمار نے نرمل ضلع کے منڈل سون پولیس اسٹیشن کے حدود میں سی پی آئی ماؤسٹ پارٹی میں کئی برسوں سے کام کرنے والے موضع کوچن پلی کے ایک ماؤسٹ پارٹی کے کمیٹی رکن موہن ریڈی عرف سریندر کے مکان واقع نرمل شہر کے ریونگی پہونچ کر ان کی ماں اے نرسوا 80 سالہ سے ملاقات کرتے ہوئے بات چیت کی۔ ماؤنواز موہن ریڈی اور ان کے ساتھیوں کو قومی دھارے میں شامل ہوجانے اور روپوش زندگی کو چھوڑ کر افراد خاندان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے تعلق سے اپنے بیٹے کو ترغیب دینے ضلع ایس پی نے ماؤسٹ کی ماں سے اپیل کی۔ انتہا پسند سرگرمیوں کو چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہوجانے والوں کی بازآبادکاری کے لئے حکومت مکمل تعاون کرتے ہوئے ان کو سماج میں ایک اچھی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کررہی ہے۔ ضلع ایس پی پروین کمار نے کہاکہ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا لڑکا سماج میں اپنے والدین کا نام روشن کرے۔ نوجوان ماؤسٹ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے خاندان اپنے علاقہ کی ترقی کے لئے ان سرگرمیوں کو چھوڑ کر فوری قومی دھارے میں شامل ہوجائیں کیوں کہ انتہا پسند سرگرمیوں کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ اس موقع پر سب ڈیویژنل پولیس آفیسر اوپندر ریڈی، ایس بی انسپکٹر، سی آئی جیون ریڈی، نرمل سی آئی این سرینواس بھی موجود تھے۔