انجمن محبان اردو ہند قطر کے چودہویں مشاعرہ کا انعقاد

   

اعلیٰ معیار برقرار، ہند و پاک کے بعد خلیج میں اردو کو پروان چڑھانے میں قطر سرفہرست

 دوحہ (قطر) :  انجمن محبان اردو ہند قطر کے زیراہتمام حسب روایت اس سال بھی جشن اردو مناتے ہوئے چودہواں عظیم الشان مشاعرہ جمعہ 17 فبروری کو بمقام ریڈیسن بلو ہوٹل منعقد ہوا۔ انجمن نے اپنے مشاعرے کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا ہے اور گزشتہ جمعہ کا مشاعرہ بھی کامیاب رہا۔ انجمن جہاں آئی سی سی سفارتخانہ ہند قطر سے ملحق ہے وہیں اسے مملکت قطر کی وزارۃ الثقافہ و الریاضہ کی گراں قدر سرپرستی بھی حاصل ہے۔ اس مشاعرے کو کئی مایہ ناز شعراء نے اپنی شرکت سے وقار بخشا۔ مشاعرہ کی صدارت مشہور علمی اور ادبی شخصیت پروفیسر خالد محمود (سابق چیرمین دہلی اردو اکادمی اور ڈین جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی) نے کی۔ پروفیسر تسنیم فاطمہ (سابق پرو وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی) مہمان اعزازی رہیں۔ معروف ومشہور شعراء میں عباس تابش، طاہر فراز، شکیل اعظمی، تہذیب حافی، مدن موہن دانش، آلوک شریواستو، فوزیہ رباب، اسماعیل راز شامل ہیں۔ دوحہ قطر کی نمائندگی عزیز نبیل، ندیم ماہر، احمد اشفاق، راقم اعظمی جیسے شعراء نے کی۔ پروگرام کی ابتداء میں انجمن کے جنرل سکریٹری اور سالانہ مجلہ ’’دستاویز‘‘ کے مدیر اعلیٰ جناب عزیز نبیل نے قطر کے باذوق سامعین اور تشنگان ادب کا استقبال کیا۔ نیاز احمد اعظمی نے تلاوت کلام مجید کی سعادت حاصل کی۔ نائب صدر انجمن اور مقبول ناظم مشاعرہ جناب ندیم ماہر نے یکے بعد دیگرے صدر انجمن جناب خالد داد خان، حکومت قطر کے نمائندہ جناب عبدالعزیز المہندی، بانی انجمن جناب ابراہیم خان کمال، سرپرست انجمن جناب حسن عبدالکریم چوگلے کو اظہار خیال کیلئے دعوت دی۔ جناب خالد داد خان نے خطبہ استقبالیہ میں انجمن محبان اردو ہند قطر کا مختصر تعارف کرایا۔ حکومت قطر کی جانب سے کمیونٹی پولیس کے آفیسر جناب عبدالعزیز المہندی نے خطاب کیا جس کی ترجمانی قطر کے مشہور ادیب و صحافی جناب عبید طاہر نے کی۔ قطر کی معروف شخصیت اور انجمن کے بانی جناب ابراہیم خان کمال نے بتایا کہ 2007ء میں انجمن کے سالانہ مشاعرہ کی ابتدائی ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ ہند و پاک کے بعد خلیج میں اردو ادب پر کام ہورہا ہے اور اس میں قطر سرفہرست ہے۔ صدر مشاعرہ پروفیسر خالد محمود نے بتایا کہ میں قطر پہلی مرتبہ آیا ہوں لیکن یہاں کی محبت اور اپنائیت سے کافی متاثر ہوا ہوں۔ انجمن کی جانب سے صدر مشاعرہ پروفیسر خالد محمود اور مہمان اعزاز ی پروفیسر تسنیم فاطمہ کو مومنٹو پیش کیا گیا۔ شاعر، صحافی و ادیب جناب آلوک شریواستو کی نظامت میں مشاعرے کا انعقاد ہوا۔ شعراء کرام نے تازہ کلام اور عمدہ اشعار پیش کئے اور سامعین نے خوب داد و تحسین سے نوازا۔ جناب سلطان صلاح الدین ، جناب حامد شریف ، جناب اظہر سلطان اور قطر کی کئی دیگر شخصیتیں شریک ِ مشاعرہ رہیں۔ مشاعرہ کے بعد مہمان شعراء و دیگر کیلئے جناب صلاح الدین نے اپنی ہوٹل ’حیدرآباد پیالیس‘ میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔ صدر مشاعرہ پروفیسر خالد محمود کے دو اشعار پیش ہیں:

ہنرمندی سے جینے کا ہنر اب تک نہیں آیا

سفر کرتے رہے طرز سفر اب تک نہیں آیا
ہزاروں فلسفی قبضہ کئے بیٹھے ہیں ذہنوں پر

مرے قابو میں یارب میرا سر اب تک نہیں آیا