انجینئرنگ میں داخلوں کے رجحان میں نمایاں کمی

   

Ferty9 Clinic

ایمسیٹ میں کامیابی کے باوجود ڈگری میں داخلے ۔ ویب کونسلنگ میں ناموں کے اندراج سے گریز

حیدرآباد۔8جولائی (سیاست نیوز) ریاست میں EAMCET میں کامیاب نصف سے زیادہ طلبہ نے ویب کونسلنگ کیلئے اپنے نام رجسٹر نہیں کروائے ہیں۔ایمسیٹ 2019 میں جملہ 1لاکھ 8 ہزار213 طلبہ نے کامیابی حاصل کی تھی جن میں 53ہزار 890 طلبہ نے ویب کونسلنگ کیلئے نام درج کروائے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انجنیئرنگ میں داخلوں کے رجحان میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ طلبہ انجنیئرنگ کے بجائے ڈگری میں داخلوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوںمیں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور جو نوجوان طالبعلم موبائیل پر زیادہ وقت گذارتے ہیں وہ انجینئرنگ جیسے مضامین میں ناکام ہورہے ہیں اور ان کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے دیگر طلبہ انجینئرنگ میں داخلوں سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔ جناب محمد لطیف خان صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر ایم ایس اکیڈمی نے ایک سوال پر یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا کہ ایمسیٹ میں اچھے نشانات حاصل کرنے والے طلبہ اب بھی داخلہ حاصل کررہے ہیں اور انہیں معیاری کالجس میں داخلہ حاصل بھی ہو رہا ہے لیکن وہ طلبہ جو کہ والدین کی خواہش پر انجنیئرنگ میں داخلہ لے رہے ہیں وہ ایک یا دو سال کے بعد انجنیئرنگ کی تعلیم ترک کرکے ڈگری میں داخلہ حاصل کر رہے ہیں ۔ محمد لطیف خان نے بتایا کہ شہر ہی نہیں بلکہ ریاستی اور ملک گیر سطح پر صورتحا ل کا جائزہ لیا جائے تو جو نوجوان موبائیل فون اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں ان کا تعلیمی معیار ابتر ہوتا جا رہاہے۔ انہو ںنے بتایا کہ انجنیئرنگ میں داخلوں سے عدم دلچسپی کا اظہار کرنے والے بیشتر طلبہ کا تعلیمی مظاہرہ کمزور ہوگا اسی لئے وہ اس سمت توجہ مبذول نہیں کر رہے ہیں۔محترمہ بلقیس فرزین سیکریٹری کرسپانڈنٹ ویژنری ڈگری کالج نے بتایا کہ ان کے کالج میں فی الحال 22ایسے طلبا ڈگری تعلیم حاصل کررہے ہیں جو انجنیئرنگ میں ایک یا دو سال گذار چکے ہیں اور انجنیئرنگ میں انہیں مشکلات پیش آ رہی تھیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ والدین اپنے بچوں کے ذہنوں میں ڈاکٹر یا انجنئیر بننے کی خواہش پیدا کردیتے ہیں لیکن عام طور پر وہ دیگر امور کو نظر انداز کردیتے ہیں جس کے سبب ایمسیٹ میں اہل قرار پانے کے باوجود طلبہ میں انجنیئر بننے کی صلاحیتیں موجود نہیں رہتیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ڈگری میں داخلوں کا رجحان واپس نہیں آرہا ہے بلکہ مختلف وجوہات کی بناء پر تعلیمی صلاحیتیں کمزور ہو رہی ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔ محترمہ بلقیس نے بتایاکہ لڑکیوں میں حصول علم کے متعلق دلچسپی ہے لیکن لڑکوں میں یہ دلچسپی نہیں دیکھی جا رہی ہے اور اب تک ڈاکٹرس کی دوڑ میں لڑکیاں زیادہ وہا کرتی تھی لیکن اب انجنیئرنگ کی دوڑ میں بھی لڑکیوں کی بڑی تعداد نظر آنے لگی ہے۔