انجینئرنگ کالجس میں ’ بی‘ زمرہ نشستوں کی تجارت کو کنٹرول کرنے کے اقدامات

   

داخلوں میں میرٹ کو نظرانداز کرنے کا سخت نوٹ، مستقل حل برآمد کرنے کی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔/24 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اسٹیٹ کونسل آف ہایئر ایجوکیشن نے انجینئرنگ میں ’ بی‘ زمرہ ( مینجمنٹ) نشستوں کو فروخت کرنے سے روکنے کیلئے ایک مستقل پالیسی تیار کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ اس تجارت پر ہر سال طلبہ، رضاکارانہ تنظیموں اور طلبہ کے والدین سے بڑے پیمانے پر شکایتیں وصول ہورہی ہیں جس کے تناظر میں مسئلہ کا حل دریافت کرتے ہوئے اپنی امیج کو صاف کرنے کی عہدیدار کوششیں کررہے ہیں۔ آئندہ تعلیمی سال(2025-26) میں اس امور پر کوئی شکایت وصول نہ ہو اس کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ نئے صدرنشین ہایئر ایجوکیشن کونسل پروفیسر بالا کشٹا ریڈی اس معاملہ میں پرعزم ہیں اور اس سمت میں اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔ حکومت ویب کونسلنگ کے ذریعہ میرٹ اور ریزرویشن کی بنیاد پر ریاست کے تمام انجینئرنگ کالجس میں 70 فیصد نشستوں پر داخلہ دے رہی ہے۔ ماباقی 30 فیصد نشستیں متعلقہ کالجس بی زمرہ یا مینجمنٹ کوٹہ کے تحت پُر کررہے ہیں۔ قواعد کے مطابق اس شعبہ کی نشستوں میں جے ای ای میں ایپسیٹ رینک؍ انٹر مارکس، میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کی جاتی ہے۔ انہیں صرف حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کنوینر کوٹہ فیس وصول کرنا چاہیئے۔ اس کے برعکس یہ الزامات ہیں کہ میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے زیادہ رقم دینے والوں کو مینجمنٹ کوٹہ کی نشستیں فروخت کی جارہی ہیں۔ ریاست میں 150 خانگی انجینئرنگ کالجس ہیں۔ حکومت کی اطلاعات کے مطابق سی ایس ای اور دیگر برانچس میں ڈیمانڈ رہنے والی ہر ایک نشست 8 تا 16 لاکھ روپئے میں فروخت کی جارہی ہے۔ این آر آئی کوٹہ میں ہر سال زیادہ سے زیادہ 5ہزار امریکی ڈالر وصول کرنے کی گنجائش ہے لیکن اس سے دوگنا وصول کرنے کی شکایتیں ہیں۔ مینجمنٹ کوٹہ کے تحت ہر سال 20 ہزار سے زیادہ نشستوں پر داخلے دیئے جارہے ہیں ۔ اوسطاً ایک نشست کی قیمت 5 لاکھ روپئے بھی تصور کرلیا جائے تو ایک اندازہ کے مطابق انتظامیہ کو 1000 کروڑ روپئے وصول ہورہے ہیں۔ دوسری جانب طلبہ ، رضاکارانہ تنظیمیں ہر سال ہائیر ایجوکیشن کونسل کے حکام کو نشستیں فروخت کرنے کی شکایات وصول ہورہی ہیں ۔ محکمہ تعلیم کے پرنسپل سکریٹری بی وینکٹیشم نے کہا کہ انجینئرنگ کے داخلوں میں میرٹ کو نظرانداز کرنے کی شکایتوں کے تناظر میں ایم بی بی ایس کی طرز پر C-B-A زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے حکومت ہی فیس مقرر کرتے ہوئے داخلے دینے یا دوسرا کوئی طریقہ کار اختیار کیا جائے اس پر غور کیا جارہا ہے۔2