انجینئرنگ کالجس میں کارکردگی کی بنیاد پر رینکنگ سسٹم متعارف ،مفخم جاہ انجینئرنگ کالج میں اورینٹیشن پروگرام سے مسٹر اروند کمار کا خطاب

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 15 اگست (پریس نوٹ) حکومت تلنگانہ عنقریب انجینئرنگ کے طلبہ کیلئے انٹرن شپ کے رسمی طریقہ کار کو روشناس کرائے گی تاکہ طلبہ کی تخلیقی اختراعی صلاحیتوں کے اظہار کا بہتر سے بہتر موقع مل سکے۔ یہ اعلان پرنسپل سکریٹری حکومت تلنگانہ و کمشنر ایچ ایم ڈی اے، کارگذار وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی مسٹر اروند کمار آئی اے ایس نے کیا۔ وہ 14 اگست کی سہ پہر مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے سال اول کے طلبہ سے مخاطب تھے۔ جناب محمد ولی اللہ وائس چیرمین سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی نے صدارت کی۔ شہ نشین پر جناب ظفر جاوید، نثاراحمد، ڈاکٹر میر اکبر علی خاں، جناب محمد جعفر، پروفیسر ایس اے وہاب، ضیاء ندیم، عامر جاوید، ڈاکٹر انوپما کونیرو، پروفیسر وبھا آستھانہ موجود تھے۔ مسٹر اروند کمار نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی کے تمام ملحقہ کالجس کیلئے نیشنل انسٹیٹیوشنس رینکنگ فریم ورک NIRF کے خطوط پر رینکنگ سسٹم کا آغاز ہوگا جسے اسٹیٹ انسٹیٹیوشنس رینکنگ فریم ورک کا نام دیا جائے گا۔ کالجس کے تعلیمی معیار، پلیسمنٹس، ریسرچ پیپرس کی اشاعت کا معیار، طلبہ اور اساتذہ کے درمیان فیصد تناسب اورکیمپس کے معیار کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے انہیں رینک دیا جائے گا۔ این آئی آر ایف کی رینکنگ سسٹم میں ٹیچنگ، لرننگ اور ریسورسس کیلئے 30 فیصد اور ریسرچ و پبلکیشن کیلئے 30 فیصد، گریجویٹس کے فارغ التحصیل ہونے پر 30 فیصد اور 10 فیصد مختلف ممالک اور ریاستوں کے طلبہ کی شمولیت پر نشانات دیئے جائیں گے۔ ادارہ جاتی درجہ بندی سے کالجس میں مسابقتی جذبہ پیدا ہوگا اور وہ اپنے معیار کو بلند کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب اسٹیٹ انسٹیٹیوشنس رینکنگ سسٹم متعارف کروایا جائے گا تو ایم جے کالج ٹاپ 3 کالجس میں شامل ہوگا۔ مسٹر اروند کمار نے جو عثمانیہ اور مہاتما گاندھی یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر بھی ہیں کہا کہ فارما اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اداروں میں ایک رسمی انٹرن شپ کے نظام کے اہتمام سے طلبہ کو انڈسٹریز میں اپنے آپ کو منوانے کا موقع ملے گا۔ جناب ظفر جاوید سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں عبور حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسپشلائزیشن کا دور ہے۔