حیدرآباد۔ 7 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست کے انجینئرنگ کالجس کی فیس میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث غریب اور متوسط طبقہ کے طلبہ پر تعلیم کی تکمیل تک ایک لاکھ روپے تک مالی بوجھ عائد ہوسکتا ہے۔ ہر سال ایک طالب علم پر 20 ہزار روپے کا زائد بوجھ عائد ہوگا اس طرح کورس کی تکمیل تک 80 ہزار کا اضافہ ہوگا۔ کتابیں اور ٹرانسپورٹ چارجس علیحدہ ہیں۔ جن کالجس نے فیس میں اضافہ کیا ہے ان میں داخلہ لینے والے تقریباً 45 ہزار طلبہ پر اس کا اطلاق ہوگا۔ یہ سب کنوینر کوٹہ میں داخلہ لینے والے طلبہ ہیں۔ علاوہ ازیں ٹرانسپورٹ، ہاسٹل اور لیاب پر 5 ہزار روپے کے اخراجات ہیں۔ عدلیہ کی منظوری سے کالجس کی اہمیت کے پیش نظر کم از کم سالانہ 10 ہزار سے 45 ہزار روپے تک فیس میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کے قواعد کے مطابق 10 ہزار تک رینک حاصل کرنے والے تقریباً 6 ہزار بی سی اور ای ڈبلیو ایس طلبہ کی مکمل فیس حکومت ادا کرتی ہے۔ گزشتہ سال کم از کم 35 ہزار اور زیادہ فیس 1.38 لاکھ روپے تھی جو اب بڑھ کر 45 ہزار اور 1.73 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ اضافی فیس حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب 10 ہزار سے زیادہ رینک حاصل کرنے والے طلبہ کی حکومت کم از کم فیس ادا کرتی ہے۔ ن