انجینئرنگ کے چند ہی کورسیس کا ڈیمانڈ

   

Ferty9 Clinic

مابقی کورسیس میں امیدواروں کی دلچسپی کم ، کالجس کے رجحان میں بھی تبدیلی
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بدلتے حالات کے موافق انجینئرنگ نشستوں میں بھرتی کے لیے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔ انجینئرنگ کی تکمیل کے بعد بیرون ممالک کا رخ کرنا ہے یا پھر ملک میں ہی ملازمت کرنا ہے ۔ اس پہلو پر ہی نشستوں کا انتخاب اور کورس میں داخلوں کو اہمیت دی جانے لگی ہے جس کے سبب گذشتہ تین سالوں کے درمیان انجینئرنگ ذریعہ تعلیم میں داخلوں کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ان حالات کو ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں چونکہ مستقبل میں کارآمد تعلیم ہی کو اہمیت حاصل ہوگی اور جو بے فیض کورس تصور کئے جارہے ہیں طلبہ اس سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کو شامل حال رکھتے ہوئے انتخاب کردہ کورس ہی طلبہ کے لیے مددگار ثابت ہوں گے ۔ طلبہ کے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے انجینئرنگ کالجس کے انتظامیہ بھی پسندیدہ کورسوں میں تعلیم ہی کو اہمیت دے رہے ہیں اور ڈیمانڈ والے کورسیس کو ہی اہمیت دی جارہی ہے ۔ ریاست میں ایمسیٹ نتائج کا 25 اگست کو اعلان متوقع ہے ۔ جس کے بعد 30 اگست سے نشستوں کی بھرتی کے لیے کونسلنگ کا آغاز ہوگا ۔ ان حالات میں گذشتہ تین سالوں کے دوران نشستوں کی بھرتی کا جائزہ لینے پر چند دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ انجینئرنگ میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ کنوینر کوٹہ کی نشستوں کی بھرتی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2018 میں کل نشستوں کی جملہ 73 فیصد ہی پر ہوپائیں ۔ جب کہ سال 2019 میں 70 فیصد اور سال 2020 میں 68 فیصد نشستوں پر ہی بھرتی ہوئی یعنی ہر سال نشستوں پر بھرتی میں کمی واقع ہورہی ہے ۔ ان حالات کی وجوہات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ بیرون ممالک میں مواقع یا پھر یہاں ملازمتوں کے امکانات والے کورسوں پر ہی توجہ دی جارہی ہے ۔ بالخصوص کمپیوٹر سائنس ، انفارمیشن ٹکنالوجی ( آئی ٹی ) آئی اے ربوٹیک انجینئرنگ جیسے کورس پر ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے جب کہ دوسری طرف ملازمتوں کے مواقع کم ہونے والے کورسوں جیسے میکانیکل ، سیول ، الیکٹرانکس جیسے کورسوں کے ڈیمانڈ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ایسی صورت میں انجینئرنگ کالجس کے انتظامیہ نے بھی اپنا رجحان بدل دیا ہے ۔ ڈیمانڈ والے کورسوں پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے نشستوں میں اضافہ اور کم ڈیمانڈ والے کورسیس کی نشستوں میں کمی کی جارہی ہے اور ڈیمانڈ والے کورسیس کی نشستوں میں اضافہ کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ ان وجوہات ہی کے سبب انجینئرنگ میں داخلہ کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ان نتائج کو ماہرین درست قرار دے رہے ہیں ۔
ویٹیج میں رینکس کی اہمیت
ایمسیٹ انجینئرنگ کے نتائج کا جاریہ ماہ 25 کو اعلان کیا جائے گا ۔ اس سال کلاسوں اور امتحانات کے بغیر ہی انٹر میڈیٹ نتائج کا اعلان کردیا گیا ۔ اس ضمن میں ایمسیٹ میں آنے والے نشانات کی بنا پر ہی رینک دیا جائیگا ۔ ریاست میں اس سال 1,47,986 طلبہ نے ایمسیٹ انجینئرنگ کا امتحان دیا اور 70 تا 80 نشانات آنے پر 10 ہزار تک رینک کی توقع کی جارہی ہے ۔ اس ماہ کی 30 تاریخ سے کونسلنگ کی جائے گی ۔ اور اس کیلئے شیڈول کو جاری کردیا گیا ہے ۔ اس کے مطابق ایمسیٹ میں کامیاب طلبہ کو 30 اگست سے 9 ستمبر تک آن لائن کے ذریعہ رجسٹریشن کروانا ہوگا ۔ جس کے بعد آئندہ ماہ 4 تا 11 تک سرٹیفیکٹ کی جانچ ہوگی ۔ 4 تا 13 تاریخ طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنا آپشن پیش کریں۔ ستمبر 15 کے دن نشستیں مختص کی جائیں گی ۔۔A