اندراماں کمیٹیوں اور گھر گھر سروے سے اقلیتوں کو دور کرنے کے الزامات مسترد

   

مسلمان گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں، دس ماہ میں اقلیتوں کی ترقی کے کئی اقدامات، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/16 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندراماں کمیٹیوں کے قیام اور ریاست میں گھر گھر سروے سے متعلق حکومت کے احکامات میں اقلیتوں کو نظرانداز کرنے سے متعلق غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے حالانکہ حکومت اندراماں کمیٹیوں کے تحت اقلیتوں کو اندراماں انڈلو اسکیم میں شامل کرتے ہوئے مکانات کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جی او ایم ایس 33 مورخہ 11 اکٹوبر کے ذریعہ گرام پنچایت اور میونسپل وارڈ کی سطح پر اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ یہ کمیٹیاں ریاست میں 4.5 لاکھ مکانات کی تعمیر کیلئے غریب خاندانوں کو 5 لاکھ روپئے کی امداد کی فراہمی کی نگرانی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ بی سی ای زمرہ میں شامل اقلیت بالخصوص مسلمان کمیٹیوں میں شمولیت کے اہل ہیں۔ گرام پنچایت کی سطح پر بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور سیلف ہیلپ گروپ کے ارکان کو شامل کیا جائے گا اور بی سی ای زمرہ کے تحت مسلمان بھی شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل وارڈ کی کمیٹیوں کی صدارت کونسلر یا کارپوریٹر کے ذمہ رہے گی۔ جس طرح گرام پنچایتوں میں مسلمانوں کو نمائندگی مل سکتی ہے اُسی طرح وارڈ ممبرس میں بھی نمائندگی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گھر گھر سروے سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے اس میں دیگر طبقات کے علاوہ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 85 فیصد مسلمان بی سی زمرہ میں شامل ہیں اور وہ سروے کا حصہ رہیں گے۔ محمد علی شبیر نے اندراماں کمیٹیوں اور گھر گھر سروے سے مسلمانوں کو علحدہ کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ عوام کو گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہیں ہونا چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس پراجکٹ کا آغاز کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 28 اسکولوں کی تعمیر عمل میں آئے گی اور ہر اسکول میں چوتھی جماعت تا انٹرمیڈیٹ 2500 طلبہ رہیں گے۔ انٹیگریٹیڈ اسکولس میں تمام مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل رہیں گے۔ پراجکٹ کیلئے حکومت نے 5000 کروڑ کا تخمینہ رکھا ہے۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت پر مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ دس برسوں میں 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس حکومت نے پہلی مرتبہ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے عہدہ پر مسلمان کا تقرر کیا۔ اس کے علاوہ کئی گورنمنٹ پلیڈر مسلمان مقرر کئے گئے۔ پبلک سرویس کمیشن میں مسلمان کو نمائندگی دی گئی۔ مسلم اداروں کے علاوہ جنرل اداروں میں فوڈ کارپوریشن اور گرندھالیہ سنستھا کے صدورنشین کے طور پر مسلم قائدین کو مقرر کیا گیا۔ انجینئرنگ کالجس میں 2200 نشستوں کا اضافہ کیا گیا۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے ایک لاء کالج اور 2 فارمیسی کالجس کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایس سی کے ذریعہ کئے گئے 10 ہزار سے زائد تقررات میں 720 اقلیتی امیدوار شامل رہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے نتیجہ میں 31 طلبہ کو ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروپ I ، گروپ II اور گروپ III تقررات میں اقلیتی امیدواروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حیدرآباد اور اضلاع میں مجالس مقامی میں کوآپشن ممبرس کے طور پر مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹر محمد سراج اور باکسر نکہت زرین کو حکومت نے ڈی ایس پی عہدہ کی ملازمت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں 80 فیصد اقلیتی انجینئرنگ کالجس بند ہوچکے ہیں جبکہ کانگریس حکومت نے 2200 اقلیتی انجینئرنگ نشستوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کو محض دس ماہ ہوئے ہیں اور بی آر ایس قائدین حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔ کانگریس حکومت حیدرآباد کی ترقی میں سنجیدہ ہے۔ موسی ریور فرنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کے ٹی آر پر گمراہ کن پروپگنڈہ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ عوام کے روبرو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دس برسوں کی حکمرانی میں کے سی آر نے ہوائی چپل سے ہوائی جہاز تک ترقی کرلی جبکہ عوام پسماندگی کا شکار ہیں۔ کانگریس پر انحراف کی حوصلہ افزائی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ دس برسوں میں اپوزیشن کے 48 ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور کونسل کو بی آر ایس میں شامل کیا گیا تھا۔ کانگریس پر الزام تراشی سے قبل بی آر ایس قائدین کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے۔ پریس کانفرنس میں حیدرآباد ضلع کانگریس کے صدر سمیر ولی اللہ، ترجمان پردیش کانگریس کمیٹی سید نظام الدین، سید متین شریف اور دوسرے موجود تھے۔1