کے سی آر خاندان کو عہدے اور زمین، سابق چیف منسٹر کے کلاس میٹ جہانگیر کو کچھ نہیں ملا، بی آر ایس اور بی جے پی میں فیویکال رشتہ، بھوپال پلی میں انتخابی جلسہ سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ اپریل کے بعد ریاست میں اندراماں ہاوزنگ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوگا اور آئندہ سال بجٹ میں اندراماں ہاوزنگ کے لئے فنڈس منظور کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے موجودہ اضلاع کی برقراری کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل اور موجودہ اضلاع میں کمی کی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔ ریونت ریڈی نے آج بلدی انتخابات میں کانگریس کی انتخابی مہم کے طور پر بھوپال پلی میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو 205 کروڑ کے بلاسودی قرض کے چیکس تقسیم کئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے یہ مہم چلائی جارہی ہے کہ بھوپال پلی ضلع کو ختم کردیا جائے گا۔ میں بھوپال پلی کے اسٹیج سے تلنگانہ کے 4 کروڑ آبادی کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی بھی ضلع کو ختم کرنے اور نئے اضلاع کی تشکیل سے متعلق کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اضلاع کی حد بندی سے متعلق علیحدہ کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ کمیشن کی سفارشات کو اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے مباحث کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور عوام کی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی اضلاع کے بارے میں حکومت کوئی فیصلہ کرے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر 10 برسوں کے اقتدار میں 20 لاکھ اندراماں مکامات تعمیر کرسکتے ہیں لیکن انہوں نے غریبوں کے لئے ہاوزنگ اسکیم پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر دور حکومت میں 25 لاکھ اندراماں مکانات تعمیر کئے گئے تھے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ غریبوں کو مکانات تو نہیں دیئے گئے لیکن کے سی آر نے ایراولی میں ایک ہزار ایکر پر فارم ہاوز، کے ٹی آر نے جنواڑہ میں 100 ایکر پر فارم ہاوز تعمیر کیا۔ ہریش راؤ، کویتا اور سنتوش کمار کے بھی فارم ہاوز ہیں۔ صرف ایک شخص کسی بھی عہدے اور زمین سے محروم رہا ہے اور وہ کے سی آر کے کلاس میٹ جہانگیر ہیں جنہیں کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ ٹی وی چیانل، نیوز پیپر کے علاوہ ہزاروں کروڑ کا بی آر ایس قائدین نے کاروبار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 مکانات تعمیر کرنے کے لئے 22500 کروڑ مختص کئے گئے اور ریاست میں جملہ 4.5 لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر اور مودی کو دیکھ کر ووٹ دینے کی بی آر ایس اور بی جے پی قائدین عوام سے اپیل کررہے ہیں۔ کیا گلی میں موری بھر جانے پر کے سی آر یا مودی آکر دیکھیں گے؟ کیا بلدی مسائل اور مودی اور کے سی آر حل کرسکتے ہیں؟ کانگریس کو ووٹ دینے پر آپ کے مقامی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ کے سی آر فارم ہاوز میں بیٹھ کر آپ کے لئے فنڈس جاری نہیں کرسکتے۔ کے سی آر اور مودی کو دیکھ کر ووٹ دینے سے کچھ نہیں ملے گا۔ تلنگانہ حکومت نے بلدیات کی ترقی کے لئے 17442 کروڑ مختص کئے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے تمام عہدے اپنے خاندان میں تقسیم کئے لیکن غریبوں کو کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر کشن ریڈی کو کلواکنٹلہ کشن راؤ قرار دیا اور کہا کہ وہ کالیشورم اسکام میں کے سی آر کی گرفتاری کو روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ کے اثاثہ جات غریبوں کے لئے وقف کرنے والے راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کے خلاف سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے مقدمات درج کئے۔ گاندھی خاندان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے لئے ای ڈی اور سی بی آئی مقدمات کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ گاندھی خاندان کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال ہوسکتا ہے لیکن کالیشورم کے معاملہ میں سی بی آئی تحقیقات سے گریز کیوں؟ انہوں نے کہا کہ فارمولہ ای ریس مقدمہ میں کے ٹی آر کو بچانے کے لئے کشن ریڈی کوشش کررہے ہیں۔ بی آر ایس اور بی جے پی میں فیویکال رشتے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کا کشن ریڈی تحفظ کررہے ہیں۔ انہیں گرفتاری سے بچانے کے لئے وہ کلواکنٹلہ کشن راؤ بن چکے ہیں۔ فون ٹیاپنگ کے ذریعہ اہم قائدین، صحافیوں، ججس اور فلمی ستاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان بھی بات چیت کی سماعت کرنا انتہائی شرمناک ہے۔ فون ٹیاپنگ کے ذریعہ صنعت کاروں کو بلیک میل کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ حاصل کئے گئے۔ بی آر ایس کو بلیک میل راشٹراسمیتی قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس کے اکاؤنٹ میں 1500 کروڑ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنوں کو عوام کو بتانا ہوگا کہ بی آر ایس اور بی جے پی دونوں ایک ہی ہیں اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ 1