کچھ تو دال میں کالا ہے
صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے پر تنقید ، پرگتی بھون میڈیا کیلئے بحال ، عنقریب عوام سے بھی راست ملاقات
حیدرآباد۔8۔ نومبر۔(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ نے غیر متوقع طور پر اندرون 24 گھنٹہ دو مرتبہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سب کو حیرت میں مبتلاء کردیا اور کہا کہ جا رہاہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اندرون 24 گھنٹے دو مرتبہ پریس کانفرنس اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے کیونکہ چیف منسٹر کو شائد کوئی ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کی وجہ سے وہ بی جے پی کے ریاستی صدربنڈی سنجے کو راست تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔گذشتہ یوم چیف منسٹر کی پریس کانفرنس کو حضور آباد انتخابات میں ہونے والی شکست کے بعد کا اثر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ آر پار کی لڑائی کرے گی اور سابق میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کو یقینی بنائے گی لیکن اندرون 24 گھنٹے دوسری پریس کانفرنس کے بعد کہا جا رہاہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کی پریس کانفرنس کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے کئے جانے لگے ہیںاور کہا جا رہاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارپوریٹر س کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ دوباک ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد چیف منسٹر فارم ہاؤز سے پرگتی بھون پہنچ گئے تھے اور اب حضور آباد انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے ساتھ ہی پرگتی بھون کے دروازے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لئے کھل چکے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر کئے جانے والے دلچسپ ریمارکس میں کہا جا رہاہے کہ اب جبکہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لئے پرگتی بھون کے دروازے کھولے جاچکے ہیں تو آئندہ بلکہ جلد ہی پرگتی بھون کو عوام کے لئے کھول دیا جائے گا تاکہ چیف منسٹر اور عوام کے درمیان میں کوئی نہ رہے بلکہ عوام راست مسٹر کے سی آر سے ملاقات کرسکیں۔ اندرون 24 گھنٹہ 2پریس کانفرنس کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ شدت کے ساتھ بی جے پی کی مخالفت کا ذہن بنا چکے ہیں اور اب انہیں روکنا دشوار ہوگا ۔اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے کہا جار ہاہے کہ چیف منسٹر پرگتی بھون کی سرکاری عمارت کا پارٹی سرگرمیو ںکے لئے استعمال کرنے کے موجب بن رہے ہیں اور چیف منسٹر کے بجائے تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ کی حیثیت سے وہ بات کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں مسٹر کے سی آر کی ان پریس کانفرنسوں کے بعد ان کے علاوہ ان کے بیٹے کے کارٹون سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگ گئے اور ٹوئیٹر پر چیف منسٹر کی جانب سے تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اب تک پٹرول پر ویاٹ نہ بڑھائے جانے کے دعوے کی تردید بھی کی جانے لگی ہے اور جو لوگ اس دعوے کو مسترد کر رہے ہیںوہ 2015 کے انگریزی اخبارات کے تراشے بھی پوسٹ کرنے لگے ہیں۔م