اندور آلودہ پانی متاثرین سے راہول گاندھی کی ملاقات

,

   

lیہ کیسا اربن ماڈل ہے ‘لوگ پانی پی کر مر رہے ہیں۔ کانگریس قائد کا سوال
lآلودہ پانی کے استعمال سے فوت ہونے والوں کے لواحقین کو رقمی امداد حوالے

اندور۔ 17؍جنوری ( ایجنسیز ) کانگریس قائد راہول گاندھی ہفتہ کومدھیہ پردیش کے اندور پہنچے اور آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوئے لوگوں اور متوفیوں کے ارکان خاندان سے ملاقات کرکے ان کی داد رسی کی۔ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں حال ہی میںآلودہ پانی پینے سے الٹی اور اسہال کی شدید وباء پھیل گئی تھی ۔ اس معاملے میں درجنوں افراد بیمار ہو ئے اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔راہول گاندھی نہ ہاسپٹل پہنچ کر مریضوں سے ملاقات کی۔ تشویشناک حالت میں داخل مریضوں کے لواحقین سے بات کی اور ان کا حال دریافت کیا۔راہول گاندھی نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسا اربن ماڈل ہے کہ لوگ پانی پی کر مررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ کیا ہے ‘حکومت میں کوئی نہ کوئی اس کیلئے ذمہ دار ہوگا۔ حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔یہ حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے۔راہول گاندھی نے متاثرہ خاندانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔اندور دورہ کے دوران راہول گاندھی نے بھاگیرتھ پورا میں آلودہ پانی پینے کے سبب جان گنوانے والی گیتا بائی اور جیون لال کے اہل خانہ سے ملے۔ اس کے بعد راہول گاندھی سنسکار گارڈن پہنچے جہاں انہوں نے متاثرین سے ملاقات کی۔ تمام کو راہول گاندھی نے ایک لاکھ اور امنگ سنگھار نے 50‘50 ہزار روپے کے چیک دیے۔ اس دوران راہول گاندھی کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش دگ وجئے سنگھ، ریاستی انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، مدھیہ پردیش اسبملی میں حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار اور اجے سنگھ بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اندور کے بھاگیرتھ پورا میں آلودہ پانی پینے کے سبب 24 اموات ہوئی ہیں۔اس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے دعویٰ کیا کہ آلودہ پانی پینے سے اب تک 24 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 سے 10 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ پٹواری نے کہا کہ یہ پوری طرح انتظامی غفلت کا معاملہ ہے اور عوام کو صاف پانی فراہم کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔جیتو پٹواری نے یہ بھی کہا کہ کانگریس راہول گاندھی کی موجودگی میں اندور میں پانی کے مسئلہ کے مستقل حل پر بات چیت کرنے کے لیے میٹنگ کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف فوری کارروائی کافی نہیں ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔ اس دوران علاقائی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو اتنے بڑے سانحہ کو روکا جا سکتا تھا۔