اندور، 21 جنوری (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی کے سبب ہونے والی اموات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ علاقے کے رہائشی ہیمنت گائیکواڑ (51) کی منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب علاج کے دوران موت ہو گئی۔ اس معاملے کو بھی آلودہ پینے کے پانی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ۔ اگرچہ ضلع انتظامیہ اب تک اس پورے واقعے کو وبائی حادثہ مان کر جانچ کر رہی ہے لیکن سرکاری طور پر صرف چار اموات کو ہی الٹی اور دست کی بیماری سے متاثر بتایا گیا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہیمنت گائیکواڑ 22 دسمبر کو آلودہ پانی پینے کے بعد اچانک بیمار پڑ گئے تھے ۔ الٹی اور دست کی شکایت بڑھنے پر انہیں پہلے 24 دسمبر کو ورما نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا جہاں حالت کچھ بہتر ہونے پر 28 دسمبر کو ڈسچارج کر دیا گیا۔ گھر واپس آنے کے بعد دوبارہ طبیعت خراب ہوئی اور 7 جنوری کو انہیں اروندو اسپتال لے جایا گیا جہاں کئی دنوں تک جاری علاج کے بعد وہ زندگی کی جنگ ہار گئے ۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق علاج کے دوران ان میں سیل کارسینوما نامی کینسر اور گردوں سے متعلق بیماری کی بھی تشخیص ہوئی لیکن ابتدائی طور پر انہیں الٹی اور دست کی وجہ سے ہی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔