انروا کا خاتمہ فلسطینی بچوں کی نسل کے خاتمہ کے مترادف

   

نیویارک: یو این آر ڈبلیو اے (انروا) کے سربراہ نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کا خاتمہ ہو گیا تو یہ بچوں کی ایک نسل کو تعلیم سے محروم کر دے گا اور “مزید انتہا پسندی کے بیج بونے کا سبب بنے گا۔”مالی امداد کی سنگین صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فلپ لازارینی نے “ایجنسی کے انہدام کے حقیقی خطرے” سے خبردار کیا۔انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، اگر ایسا ہوا تو “ہم یقیناً بچوں کی ایک نسل قربان کر دیں گے جو مناسب تعلیم سے محروم رہیں گے۔”لازارینی نے تنظیم کو غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں تقریباً 60 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے “زندگی کی لکیر” قرار دیا ہے۔لیکن سات اکتوبر کے حملے کے بعد انروا طویل عرصے سے سخت اسرائیلی تنقید کی زد میں ہے۔اور اس سال کے شروع میں اسرائیل نے انروا سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے اسرائیلی سرزمین پر کام کرنے پر پابندی لگا دی۔اگرچہ یہ بدستور غزہ اور مغربی کنارے میں کام کر سکتی ہے لیکن اسے اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے سے روک دیا گیا ہے جس سے فلسطینی علاقوں میں امداد کی محفوظ ترسیل کو مربوط کرنا مشکل ہو گیا ہے۔اسرائیل نے دلیل دی ہے کہ انروا کو اقوامِ متحدہ کی دیگر ایجنسیوں یا این جی اوز سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔لازارینی نے اس ہفتے کے شروع میں تسلیم کیا کہ اگر جنگ سے پیدا شدہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے “ٹرکوں کو غزہ میں لانا” واحد مقصد ہے تو دوسرے ادارے بھی اس میں قدم رکھ سکتے ہیں۔