دنیا کے آلودہ شہروں میں نئی دہلی سرفہرست ، لاہور ، ڈھاکہ و دیگر شہروں میں آلودگی پر ڈبلیو ایچ او کا اظہار تشویش
حیدرآباد 20 ۔ فروری (سیاست نیوز) دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ اور انسانیت کے تحفظ کیلئے مہم جاری ہے کیونکہ دنیا کو ہتھیاروں سے زیادہ آلودگی سے خطرہ لاحق ہے۔ آلودگی عالمی مسئلہ بن کر ابھر چکا ہے اور صحت سے متعلق دنیا بھر کی تنظیمیں شعور بیداری کے ساتھ قانون سازی کی سفارش کر رہی ہے تاکہ دنیا کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان نے آلودگی کے معاملہ میں دنیا بھر میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔ غربت ، بیروزگاری اور نظم و نسق میں کرپشن کے معاملات میں ہندوستان پہلے ہی دنیا میں ریکارڈ قائم کرچکا ہے لیکن اب فضائی آلودگی کے معاملہ میں ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کو دنیا کے انتہائی خطرناک علاقوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ عالمی تنظیم صحت ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے آلودگی کے خلاف مہم کے طور پر دنیا کے ان شہروں کی فہرست جاری کی ہے جہاں فضائی آلودگی انسانی صحت کیلئے مضرت رساں بن چکی ہے۔ ورلڈ ایر کوالیٹی رپورٹ 2023 کے مطابق 134 ممالک کا سروے کیا گیا جن میں صرف 10 ممالک ایسے ہیں جہاں آلودگی پر قابو پانے گائیڈ لائینس پر عمل کیا جارہا ہے۔ فضاء میں آلودگی کے اعتبار سے نئی دہلی کو پہلا مقام حاصل ہے جبکہ پڑوسی ملک پاکستان کا لاہور شہر دوسرے نمبر پر ہے۔ فضاء میں آلودگی سے متعلق جو ذرات پائے جاتے ہیں ، ان میں دہلی اور لاہور کو دنیا میں سرفہرست دکھایا گیا ۔ اتنا ہی نہیں آلودگی نے ان شہروں میں عوام کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن نے عالمی سطح پر صحت کیلئے جن شہروں کی نشاندہی کی ہے ، ان میں دہلی اور لاہور کے بعد بیجنگ ، میکسیکو ، ایتھنس ، برلن، پیرس ، لاس اینجلیس ، میڈرڈ، لندن اور دیگر دو شہروں کو شامل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دہلی اور لاہور کے مقابلہ دیگر شہروں میں فضائی آلودگی کی شرح کافی کم ہے۔ دونوں شہر ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن کی گائیڈ لائینس سے دس گنا زیادہ آلودگی کے ذمہ دار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آلودگی سے غریب اور متوسط طبقات میں اموات کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ عالمی سطح پر سروے میں جن شہروں کی انتہائی آلودہ شہر کے طور پر نشاندہی کی گئی ، ان میں چاڈ کا دارالحکومت نڈجے مینا شامل ہیں۔ دارلحکومتوں کے معاملہ میں دہلی دوسرے اور بنگلہ دیش کا ڈھاکہ تیسرے نمبر پر ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آلودگی سے پھیپھڑوں کے کینسر میں اضافہ ہوا ہے ۔ دنیا میں پانچ اموات میں ایک اس مرض سے فوت ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں آلودگی پر قابو پانے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا تاکہ انسانیت کا تحفظ ہو۔1