انسانی بالوں کی تجارت، دھاوے میں تین کروڑ روپئے ضبط

   

انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کارروائی ، تلنگانہ اور آندھراپردیش میں بالوںکی منتقلی کا ریاکٹ
حیدرآباد۔26 ۔اگست (سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے بڑی کمپنیاں اور دولتمند افراد کے خلاف دھاوؤں کے بارے میں تو ہر کسی نے سنا ہوگا لیکن آندھراپردیش کے مغربی گوداوری ضلع میں انسانی بال کے اکسپورٹ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً تین کروڑ روپئے ضبط کئے گئے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے مغربی گوداوری میں 8 مقامات پر دھاوے کئے اور غیر محسوب رقم کے طور پر دو کروڑ 90 لاکھ روپئے ضبط کیا ۔ عہدیداروں کے مطابق فارن اکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کارروائی میں 12موبائیل فون ، تین لیاپ ٹاپ ، ایک کمپیوٹر ، ڈائریز ، اکاؤنٹ بکس اور دیگر دستاویزات کو تحویل میں لیا گیا ۔ انسانی بالوں کے یہ اکسپورٹرس اپنی ذرائع آمدنی اور بھاری رقم کی موجودگی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر رہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے مطابق بعض آن لائین بیٹنگ ایپس کے ذریعہ منی لانڈرنگ معاملات کی جانچ کے دوران انہیں انسانی بالوں کی برآمد کرنے والے تاجروں کے پاس غیر محسوب دولت کا پتہ چلا۔ ایجنسی کے مطابق حوالہ کے ذریعہ تاجروں کو 60 کروڑ روپئے کی رقم منتقل کی گئی تھی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش سے انسانی بالوں کا کاروبار کرنے والے تاجروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی گئی ۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ مقامی تاجرین حیدرآباد ، گوہاٹی اور کولکتہ میں موجود بیرونی تاجروں کو بال فروخت کرتے ہیں۔ ان بالوں کو منی پور ، میزورم اور دیگر مقامات سے میانمار کو منتقل کیا جاتا ہے ۔ سڑک کے راستے غیر قانونی طور پر یہ تجارت جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان بالوں کو میانمار سے چین روانہ کیا جاتا ہے ۔ یہاں ان کی پروسیسنگ کی جاتی ہے۔ چین کے تاجرین 28 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے بچنے کیلئے غیر قانونی طور پر تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے دو تاجروں نے شمال مشرقی ریاستوں میں غیر قانونی فروخت کے ذریعہ 3.38 کروڑ روپئے حاصل کئے ۔ میانمار سے تعلق رکھنے والے بعض شہری مستقل طور پر حیدرآباد میں قیام کرتے ہیں اور وہ مقامی سطح پر بالوں کی خریدی کرتے ہیں ، جہاں سے میانمار منتقلی عمل میں آتی ہے۔ رقم کی ادائیگی مقامی طور پر یا پھر حوالے کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے مطابق میانمار کے علاوہ بنگلہ دیش ، ویتنام ، آسٹریا اور دیگر ممالک کو بالوں کی منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔ R