انسانی حقوق کمیشن کا دورہ بھونگیر، متاثرہ دلت خاندان سے ملاقات

   

صدرنشین جسٹس چندریا نے انصاف کا تیقن دیا، عہدیداروں سے مشاورت
حیدرآباد: تلنگانہ انسانی حقوق کمیشن نے بھونگیر میں دلت خاتون کی پولیس لاک اپ میں ہلاکت کے واقعہ کا از خود نوٹ لیتے ہوئے اپنے طور پر مقدمہ درج کیا ہے ۔ کمیشن نے مریماں کی موت کی جانچ کیلئے متوفیہ کے فرزند اودئے سے ملاقات کی۔ انسانی حقوق کمیشن کے صدرنشین جسٹس جی چندریا نے کمیشن کے ارکان این آنند راؤ اور محمد عرفان معین الدین کے ہمراہ ہاسپٹل میں زیر علاج 19 سالے اودئے سے ملاقات کی اور مریماں کی موت پر دکھ کا اظہار کیا۔ بھونگیر ضلع کے اڈہ گوڈور پولیس اسٹیشن میں 18 جون کو یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔ پولیس نے سرقہ کے الزام میں مریماں اور اس کے فرزند کو حراست میں لے کر بری طرح اذیت دی تھی۔ ضلع کلکٹر آر وی کرنن اور پولیس کمشنر ایس وشنو بھی دورہ میں شریک رہے۔ جسٹس جی چندریا نے اودئے کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور پولیس کی جانب سے تھرڈ ڈگری استعمال کرنے پر افسوس ظاہر کیا ۔ اودئے نے انسانی حقوق کمیشن کو تمام تفصیلات سے واقف کرایا۔ ڈاکٹرس نے اودئے کی حالت اور علاج کے بارے میں تفصیل بیان کی ۔ حکومت کی جانب سے اودئے کو 15 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمت اور ڈبل بیڈروم مکان الاٹ کیا جائے گا۔ صدرنشین انسانی حقوق کمیشن نے تیقن دیا کہ مریماں کی موت کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں گی۔ خاطی پولیس عہدیدار کے خلاف کارروائی کیلئے حکومت سے سفارش کی جائے گی۔ جسٹس چندریا نے گورنمنٹ ہاسپٹل میں علاج کی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کلکٹر اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ جسٹس چندریا نے کہا کہ پولیس کی تحویل میں خاتون کی موت انتہائی بدبختانہ ہے ۔