انسانی ڈھال بن کر مسلمانوں نے ساوتری کے کروائے’سات پھیرے‘

   

نئی دہلی28 فروری (سیاست ڈاٹ کام) قومی راجدھانی کے شمال مشرقی علاقہ میں سی اے اے کے نام پر ہونے والے اس تشدد کا لوگوں پر بڑے پیمانے پر اثر ہوا ہے۔ تشدد کی آگ میں متعدد خاندان مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور درجنوں افراد نے اپنی جان گنوا دی اور بے شمار لوگوں کی زندگی تاریک ہو گئی۔ دریں اثنا ایسے بھی واقعات رونما ہوا جو تشدد کی بھڑکتی آگ میں سکون دینے والے ہیں اور انسان دوستی کو فروغ دیتے ہیں۔اسا ہی ایک واقعہ 23 سالہ ساوتری پرساد کا ہے جوکہ مسلم اکثریت علاقہ کی رہائشی ہے اور اس کی شادی کے پورا ہونے میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ساوتری کی شادی 25 فروری بروز منگل کو طے تھی اور پیر کے روز اس کے ہاتھوں پر مہندی تو لگ گئی لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ شادی ہو بھی پائے گی یا نہیں، کیوں کہ علاقہ میں تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ساوتری کا گھر چاند باغ علاقہ میں ہے جہاں اتوار کے روز تشدد شروع ہوا تھا اور اگلے دو تین دنوں تک یہ آگ ٹھنڈی نہیں ہو سکی۔ ساوتری کی شادی گلشن کمار نامی نوجوان سے طے ہوئی تھی اور دنوں خاندان شادی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ساوتری کو جب تشدد کا پتہ چلا تو وہ زار و قطار رونے لگی۔