انصاف کی فراہمی ‘تلنگانہ ملک میں تیسرے مقام پر

   

ایک سال میں صورتحال میں بہتری، خاتون ججس کی تعداد میں اضافہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ ریاست انصاف کی فراہمی میں ملک میں تیسرے نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ سابق میں تلنگانہ آٹھویں مقام پر تھی لیکن عوام کو انصاف کی فراہمی کے معاملہ میں صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انڈیا جسٹس رپورٹ میں ریاستوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ میں ضلعی سطح پر خاتون ججس کی تعداد زیادہ ہے جس کے نتیجہ میں غریبوں کو قانونی امداد کی فراہمی میں مدد ملی ہے۔ رپورٹ میں پولیس، جیل، جوڈیشری اور قانونی امداد جیسے شعبوں میں مختلف ریاستوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ مہاراشٹرا 18 ریاستوں میں گذشتہ دو سال سے سرفہرست ہے۔ ٹاملناڈو دوسرے نمبر پر ہے جبکہ تلنگانہ کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ ٹاملناڈو، گجرات اور کیرالا میں بھی انصاف رسانی کے معاملات میں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 میں ٹاملناڈو تیسرے نمبر پر تھا جبکہ تلنگانہ آٹھویں مقام پر تھا لیکن جاریہ سال تلنگانہ نے 8 درجات عبور کرتے ہوئے تیسرا مقام حاصل کیا۔ چھوٹی ریاستوں میں تریپورہ سرفہرست ہے جبکہ سکم اور گوا دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں صرف 29 فیصد ججس خاتون ہیں۔ گذشتہ 25 سالوں میں 1995 سے 1.5 کروڑ افراد کو قانونی امداد ملی ہے جبکہ ملک کی آبادی کا 80 فیصد قانونی امداد کا مستحق ہے۔