انفرمیشن سیکیورٹی میں خواتین کوموقع دینے کا مطالبہ

,

   

ریاض ۔ ریاض میں آن لائن بین الاقوامی کانفرنس نے کہا ہے کہ خواتین کو انفرمیشن سیکیورٹی میں کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ سعودی عرب سائبر سیکیورٹی پر دو ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔الشرق الاوسط کے مطابق سعودی عرب سرکاری اور نجی شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپناررہا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل گورنمنٹ کے تصور پرعمل کیا جا رہا ہے۔ سعودی سائبر سیکیورٹی آرگنائزیشن نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں انفرمیشن سیکیورٹی کے مسائل حل کرنے کے لئے آن لائن بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی ہے۔ انفرمیشن سیکیورٹی کے شعبے میں خواتین کے قدم جمانے کا معاملہ اٹھایاگیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کی سعودی آرگنائزیشن کی کنسلٹنٹ بسمہ احمدوش نے ایک مقالہ پیش کرکے کہا کہ خواتین اس شعبے میں دنیا بھر میں 24 فیصد ہیں۔ انفرمیشن سیکیورٹی گروپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر فاطمہ العقیل نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مزید ترغیبات دی جائیں۔ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس موقع پر انٹرنیشنل سائبر سیکیورٹی کی خاطر دو پروگراموں کی سرپرستی کی بات کی ہے جن میں سے ایک سائبر کی دنیا میں بچوں کے تحفظ کا پروگرام جبکہ دوسرا سائبر سیکیورٹی میں خواتین کو اپنے قدموں پر کھڑے کرنے کا پروگرام ہے۔سائبرنیٹ کمپنی میں سیلزسیکشن کے ڈپٹی چیئرمین ایھاب درباس نے کہا کہ مشرق وسطی سائبر سیکیورٹی مارکیٹ کا حجم 2020 کے آخر تک 16 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جبکہ 2025 میں اس کا حجم 28 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہوگا۔