انقرہ میں خودکش حملے کے بعد پولیس چھاپے، 67 مشتبہ افراد حراست میں

   

انقرہ : ترکیہ کی پولیس نے انقرہ میں خودکش دھماکے کے بعد ملک بھر میں کرد عسکریت پسندوں سے مبینہ روابط پر کم سے کم 67 افراد کو حراست میں لیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وزیر داخلہ علی یرلی قایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’پولیس نے 16 صوبوں میں چھاپے مارے ہیں جہاں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ’انٹیلی جنس سٹرکچر‘ کا مبینہ طور پر حصہ ہونے کی بنا پر 55 افراد جبکہ دیگر پانچ صوبوں میں بھی پارٹی کے کم سے کم 12 مشتبہ ارکان کو حراست میں لیا ہے۔‘دہائیوں سے کردستان ورکرز پارٹی ترکیہ میں شدت پسند کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ امریکہ اور یورپی یونین نے اس کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے۔1984 میں اس تنازعہ کے آغاز سے اب تک لاکھوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اتوار کو وزارت داخلہ کی عمارت کے سامنے خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں دو پولیس افسر معمولی زخمی ہوئے تھے۔حکام کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں آئے تھے جو انہوں نے جانوروں کے ایک ڈاکٹر سے چھینی تھی۔کردستان ورکرز پارٹی نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھ